Razi Akhtar Shauq recites his ghazal دن کا ملال شام کی وحشت کہاں سے لائیں
Автор: Khursheed Abdullah
Загружено: 2026-01-30
Просмотров: 223
Описание:
رضی اختر شوق
دن کا ملال شام کی وحشت کہاں سے لائیں
زر زادگان شہر محبت کہاں سے لائیں
وڈیو کے لیے شکریہ: محترم محمد سالک الدین
جشنِ جگن ناتھ آزاد
کولمبس، اوہائیو 1997
دن کا ملال شام کی وحشت کہاں سے لائیں
زر زادگان شہر محبت کہاں سے لائیں
صرف شمار دولت دنیا ہوئے جو لوگ
وہ نامراد دل کی امارت کہاں سے لائیں
سارا لہو تو صرف شمار و عدو ہوا
شام فراق یار کی اجرت کہاں سے لائیں
وہ جن کے دل کے ساتھ نہ دھڑکا ہو کوئی دل
زندہ بھی ہیں تو اس کی شہادت کہاں سے لائیں
دو حرف اپنے دل کی گواہی کے واسطے
کہنا بھی چاہتے ہوں تو جرأت کہاں سے لائیں
بے چہرہ لوگ چہرہ دکھانے کے شوق میں!
آئینے مانگ لائے ہیں حیرت کہاں سے لائیں
اپنے ہی نقش پا کے عقیدت گزار لوگ
کچھ اور دیکھنے کو بصارت کہاں سے لائیں
کچھ زر گران شہر نے اہل کمال کا
چہرہ بنا لیا قد و قامت کہاں سے لائیں
اجڑے نہیں کبھی وہ جو ٹوٹے نہیں کبھی
وہ لوگ حرف لکھنے کی قوت کہاں سے لائیں
جب در ہی بند ہوں کوئی خوشبو کہاں سے آئے
گر لفظ لکھ بھی دیں تو حلاوت کہاں سے لائیں
رضی اختر شوق
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: