Faiz Ahmed Faiz recites his Ghazal بے دم ہُوئے بیمار دوا کیوںنہیں دیتے
Автор: Khursheed Abdullah
Загружено: 2026-01-15
Просмотров: 639
Описание:
کلامِ شاعر بزبانِ شاعر
فیض احمد فیض
بے دم ہُوئے بیمار دوا کیوںنہیں دیتے
تم اچھے مسیحا ہو شفا کیوںنہیں دیتے
دردِ شبِ ہجراںکی جزا کیوں نہیں دیتے
خونِ دلِ وحشی کا صِلا کیوں نہیں دیتے
مِٹجائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے
مُنصف ہو تو اب حشر اُٹھا کیوںنہیںدیتے
ہاں نکتہ ورو لاؤ لب و دل کی گواہی
ہاںنغمہ گرو سازصدا کیوںنہیںدیتے
پیمانِ جنوںہاتھوںکو شرمائے گا کب تک
دل والو گریباںکا پتہ کیوںنہیںدیتے
بربادیِ دل جبر نہیںفیضؔکسی کا
وہ دشمنِ جاںہے تو بُھلا کیوںنہیںدیتے
فیض احمد فیض
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: