Abu Talib (A.S)- Sachey Bhai
Автор: Sachey Bhai
Загружено: 2018-08-07
Просмотров: 1481
Описание:
شریکِ دعوتِ اسلام ہے ابو طالب
نبی کو حق کا اک انعام ہے ابو طالب
حریم میں وحی میں الہام ہے ابو طالب
حرم کے عظم کا احرام ہے ابو طالب
یہ سُن کے لائے جو غنچہ وہ پھول ہو جائے
پھر اُن کی گود میں پل کر رسول ہو جائے
شریکِ دعوت ۔۔۔
رسولِرب کا نگہبان ہے ابوطالب
ہے دین تو ایمان ہے ابوطالب نبی
نزولِ وحی کا عنوان ہے ابوطالب
بغیر لفظوں کا قرآن ہے ابوطالب
انہی کے دم سے ہوئی ابتدائ بسم اللہ
انہی نے نقطہ دیا زیرِبا ئِ بسم اللہ
شریکِ دعوت ۔۔۔
پیعمبری کی بلائوں کا رد ابوطالب
مدد خُدا کی ہے شکلِ مدد ابوطالب
نبی کی ڈھال دمِ جَدو کد ابوطالب
نشانہ ختم ِرسل اور زد ابوطالب
جہاد ان کا ہے پسِ منظر جہادِ علی
علی ہیں بعد میں ان کے یہ پہلے نادِ علی
شریکِ دعوت ۔۔۔
کہاں ہے تنگ نظر ہم سے بھی تو آنکھ ملا
ہے ان کے کُفر کا دعوہ تو کُچھ ثبوت بھی لا
کوئی تو رسم جہالت کی ان کے گھر میں دِکھا
بُتوں کے آگے جُھکا ا ن کاسر سر اپنا جُھکا
خُدا کے نُور پہ او خاک ڈالنے والے
یہ بُت شکن کو ہیں گودی میں پالنے والے
شریکِ دعوت ۔۔۔
رسول ان کا بڑا احترام کرتے ہیں
ثوابِ دید سے تنظیمِ عام کرتے ہیں
سحر کو اُٹھتے ہی اول یہ کام کرتے ہیں
انہیں نماز سے پہلے سلام کرتے ہیں
نبی کسی کافر کو یوں سلامی ہے
تو پھر ضرور نبوت میں کوئی خامی ہے
شریکِ دعوت ۔۔۔
انہی کے گھر میں خیراُلانعام صلے علیٰ
پسر نبی کا ہے قائم مقام صلے علیٰ
اسے نصیب ہے یہ احترام صلے علیٰ
کہ ان کے خُرد ہیں سارے امام صلے علیٰ
خطا معاف ہو یہ بھی اگر نہیں مومن
تو پھر جہاں میں کو ئی بشر نہیں مومن
شریکِ دعوت ۔۔۔
نہ جانچیئے یہ روایت نہ سیرت و کردار
نبی کی آنکھ سے ان کو دیکھیئے اک بار
یہ بارگاہِ رسالت میں آپ کا تھا وقار
بچھا کے خاک انہیں روئے احمدِ مُختار
وہ عامِ حُزن بنا ان کا جب وصال ہوا
یہ غم رسول کی اُمت میں اک سال ہوا
شریکِ دعوت ۔۔۔
یہ مرنے والا گر ایمان ہی نہ لایا تھا
تو کیا رسول نے کافر کا غم منایا تھا
زُبان پہ وا اباۃٰ بار بار آیا تھا
وہ خود بھی روئے تھے اوروں کو بھی رُلایا تھا
جتا دیا تھا کہ جو مُحسنِ رسالت ہے
تو اُسکو رونا رُلانا نبی کی سُنت ہے
شریکِ دعوت ۔۔۔
یہ بات اگر ہو اجازت تو پُوچھ لوں میں یہیں
حُسین ابنِ علی کیا نہیں تھے مُحسن ِدیں
ہم ان کو روئیں تو پھر کیوںہو چیں با جبیں
بنے تھے ان کا تو ناقہ رسولِ عرشِ نشیں
حُسین سوئے شہِ مُرسل کے سینے پر
غضب ہے شمر کا زانوں اُنہیں کے سینے پر
شریکِ دعوت ۔۔۔
یہ بگوشِ ہوش کیوں جب حالِ کربلا سُنیئے
سُنا جو میرے تصور نے جو وہ ذرا سُنیئے
بیان ہمتِ صبر و شاہ ِالھُدیٰ سُنیئے
وہ آتی ہے ملک ُالموت کی صدا سُنیئے
مِلا جو حُکم کہ سر سے نکال جانِ حُسین
کہا کہ سخت ہے یا رب یہ امتحانِ حُسین
شریکِ دعوت ۔۔۔
لگا ہے زخم تبر بہہ رہا ہے سر سے لہو
بھرے ہیں خون میں جانِ رسول کے گیسُو
قریب جا کے رکھوں دل پہ کس طرح قابو
کہ اس لہو میں تو ہے فاطمہ کے دودھ کی بُو
ندا یہ آئی کہ آنکھیں تو ڈال آنکھو ں میں
کہا بہن کا ہے اس دم خیال آنکھوں میں
شریکِ دعوت ۔۔۔
ندا یہ آئی کہ گردن سے کھینچ جان ان کی
کہا میں کیا کروں گردن پہ چل رہی ہے چُھری
چُھری پکڑ کہ یہ چلاتی ہے کوئی بی بی
نہ ذبح کر میرے بچے کو میں دُعا دوں گی
جہاں رواں تیرے خنجر کی آب ہے ظالم
یہ بوسہ گاہِ رسالتِ مآب ہے ظالم
شریکِ دعوت ۔۔۔
ندا یہ آئی کہ سینے سے قبض کر لے جان
کہا کہ تیروں سے چھلنی ہے اے میرے رحمان
ابھی تو مار کے برچھی ہٹا ہے اک شیطان
اور اب تو ہے تہہِ زانوئے شمر یہ قرآن
یہ کرم ہے کے رُخِ پاک گردہے یا رب
تیرے حُسین کے سینے میں درد ہے یا رب
شریکِ دعوت ۔۔۔
ندا یہ آئی کہ مظلومیت کا رُتبہ شناس
کمر سے کھینچ لے صابر کی جانِ بیوسواس
کہا ملک نے تڑپ کر با درد و حسرت و یاس
کمر تو ٹوٹ گئی جب سے مر گئے عباس
صدائے غیب یہ آئی بحال ہے چہرہ
کہا ہے خون سے اصغر کے لال ہے چہرہ
شریکِ دعوت ۔۔۔
یہ گُفتگُو تھی کہ مُرجھا گیا رسول کا پُھول
فلک سے آگئے رُوحُ الامین حزین و ملول
کہا پُکار کے مُنہ ڈھانپ لوبرائے رسول
پسر کی لاش پہ کُھولیں گی اپنے بال بتول
صدا یہ سُن کے اس سمت چل پڑی زینب
تڑپ کے خیمے سے باہر نکل پڑی زینب
شریکِ دعوت ۔۔۔
نسیم اُدھر سے تو قُدسی کی صدا آئی
ادھر تڑپتی ہوئی بنتِ مُرتُضٰی آئی
قریبِ لاش جوخواہر بصد بُقا آئی
اخی کے حلقِ بُریدہ سے یہ صدا آئی
کوئی بزرگ نہ اب ہے نہ خُرد ہے زینب
نبی کی آل تمہارے سپرد ہے زینب
شریکِ دعوت ۔
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: