Ehsan Danish Ghazal(2) - Exclusive Recording for Audio Archives of Lutfullah Khan
Автор: Khursheed Abdullah
Загружено: 2018-04-17
Просмотров: 552
Описание:
کلامِ شاعر بزبانِ شاعر
احسان دانش
میرے افلاس نے کھائی نہیں دولت سے شکست
اور اِس ملک کے فنکار سے کیا چاہتے ہو
خصوصی رکارڈنگ براے
آواز خزانہ۔ لُطُف اللہ خان
دوستو ! شاعرِ نادار سے کیا چاہتے ہو
رنگ و نکہت کے گرفتار سے کیا چاہتے ہو
ہے مِری وقت کے خاموش تقاضوں پہ نظر
اِس سے بڑھ کر مِرے اشعار سے کیا چاہتے ہو
کیا یہ کچھ کم ہے کہ ہوتی ہے مساجد میں اذاں
اور اِس دورِ زبوں کار سے کیا چاہتے ہو
حُسن کے شوخ فسانے مِرے امکاں میں نہیں
آدمیت کے عزادار سے کیا چاہتے ہو
شکر کی جا ہے کہ ناموسِ حرم ہے محفوظ
اور گرتی ہوئی دیوار سے کیا چاہتے ہو
طالبان گُل و لالہ ! یہ کبھی سوچا ہے
کارگاہِ رسن و دار سے کیا چاہتے ہو
ہے غنیمت کہ سِسکتے ہیں ابھی چند چراغ
بند ہوتے ہوئے بازار سے کیا چاہتے ہو
راستے گُم ہیں، جرس گُنگ ہے،منزل روپوش
اور اب قافلہ سالار سے کیا چاہتے ہو
میرے افلاس نے کھائی نہیں دولت سے شکست
اور اِس ملک کے فنکار سے کیا چاہتے ہو
احسان دانش
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: