انسانی زندگی کے پانچ مراحل مفتی محمد سلمان زاہد Stages of Human Life By Mufti Mohammad SALMAN ZAHID
Автор: النور
Загружено: 2026-03-10
Просмотров: 11
Описание:
انسانی زندگی کے پانچ مراحل:
اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانشقاق آیات 16 تا 18 میں چارچیزوں کی قسمیں کھائی :
(1)شفق یعنی سورج کی اُس سُرخی کی قسم جو سورج غروب ہوجانے کے بعد مغربی اُفق پر ہوتی ہے
(2)رات کی قسم۔
(3)رات جن چیزوں کو اپنے اندر سمیٹ لیتی اور جمع کرلیتی ہے ،اُن سب کی قسم۔
(4)چاند کی قسم جب وہ اپنی روشنی کو جمع کرکے روشنی سے بھرجائے یعنی چودھویں کا ہوجائے۔
پھر ان قسموں کے بعد یہ اِرشاد فرمایا:
﴿لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ﴾
ترجمہ: تم سب ایک منزل سے دوسری منزل کی طرف چڑھتے جاؤ گے۔(الانشقاق:19)
گویا انسان اپنی پوری زندگی میں ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف اور ایک مرحلہ سے دوسرے مرحلہ کی جانب منتقل ہوتا چلا جاتا ہے۔
بلکہ وہ تو اپنے وجود سے پہلے بھی اور مرنے بعد بھی مرحلہ وار مختلف منازل اور مراحل سے گزرتا ہے۔
انسان کو اوپر پیش آنے والے تین طرح کے مراحل :
بنیادی طور پر ہم انسان کے اُن تمام مَراحل کو جن سے وہ بتدریج گزرتا ہے ،اُن کو تین حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں:
(1)تخلیقی مَراحل:
(2)حیاتی مَراحل:
(3)مَماتی مَراحل:
تخلیقی مَراحل:
یعنی اُس کی پیدائش اور وجود کی تخلیق میں پیش آنے والے مَراحل۔جیسے:
نطفہ — منجمد خون— مُضغہ یعنی گوشت کا لوتھڑا— ہڈیوں کا بننا — ہڈیوں پر گوشت کا چڑھنا — تکمیل اعضاء — روح کا ڈالنا — ولادت کا عمل
حیاتی مَراحل:
یعنی پیدائش کے بعد انسانی زندگی میں پیش آنے والے مختلف قسم کے تدریجی انقلابات۔ جیسے: بچپن — لڑکپن — جوانی— اَدھیڑ عُمر — بُڑھاپا۔
مَماتی مَراحل:
یعنی موت کے بعد جنّت یا دوزخ میں جانے تک پیش آنے والے مختلف مَراحل، جیسے:
موت یعنی روح کا نکل جانا — قیامت کے قائم ہونے تک حیاتِ برزخی میں ہونا — مرنے کے بعد دوبارہ اُٹھایا جانا — میدانِ محشر کی جانب جانا — حساب و کتاب کا ہونا — میزانِ عمل کا قائم ہونا — پُل صراط پر گزرنا — نامۂ عمل کا ملنا — جنّت یا جہنم میں جانا۔
فی الحال ہم ان میں سے درمیانے مراحل یعنی انسانی اندگی کے اوپر گزرنے والے مراحل کا تذکرہ کریں گے۔
انسانی زندگی کے پانچ مراحل:
(1)بچپن کی عُمر۔
یہ سات سال تک عُمر کو کہا جاتا ہے
(2)لڑکپن۔
یہ سات سے لیکر چودہ سال تک کی عمر کو کہتے ہیں
(3)جوانی۔
یہ چودہ پندرہ سال سے لیکر پینتالیس سال تک کی عمر کے زمانہ کو کہا جاتا ہے۔
(4)اَدھیڑ عُمر۔
یہ پینتالیس سال سے لیکر پینسٹھ سال تک کے زمانہ کو کہاجاتا ہے
(5)بُرھاپے کی عُمر۔
یہ ساٹھ پینسٹھ سال کے بعد سے موت تک کے زمانہ کو کہتے ہیں۔
عمر کا سب سے بہتر اور قیمتی زمانہ جوانی کا ہے۔
اس لئے کہ یہ سب سے زیادہ لمبا زمانہ ہے
اس لئے کہ اس کی قدر کرنے کی سب سے زیادہ تاکید کی گئی ہے
اس لئے کہ اس کو صحیح گزارنے کی بہت زیادہ فضیلت بیان کی گئی ہے
اس لئے کہ اس کو صحیح طریقے سے گزارنے میں مشقت اور قربانی بھبی بہت بڑی ہوتی ہے۔
جوانی کی عمر کی اہمیت:
اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے غنیمت جانو۔
وہ نوجوان جو عبادت میں پروان چڑھا وہ عرش کے سائے میں جگہ پائے گا
پانچ چیزوں کا سوال ہوگا: عمر کے بارے میں ، جوانی کے بارے میں، مال کے کمانے کے بارے میں، مال کے خرچ کرنے کے بارے میں اور علم پر عمل کرنے کے بارے میں۔ ان پانچوں سوال میں اگرچہ عمر اور زندگی کا سوال ہے لیکن پھر بھی الگ سے جوانی کی زندگی کیسے گزارے جانے کا سوال ہوگا ، جس سے اس عمر کی اہمیت کو سمجھا جاسکتا ہے۔
بچپن اور لڑکپن کے کرنے کے کام:
ماں باپ کو چاہیئے کہ سات سال کی عُمر میں حدیث کے مطابق باقاعدہ نماز کا حکم دیں اور دس سال کی عُمر میں نماز نہ پڑھنے پر سختی کا رویہ اپنائیں۔
اور لڑکپن کی عمر میں بھی ماں باپ کو اپنے بچوں کی بہت زیادہ دیکھ بھال اور نگہداشت کرتے رہنا چاہیئے
جوانی میں کرنے کے کام:
(1)جوانی کو غنیمت جاننا جس کا طریقہ یہ ہے کہ عمل کے ساتھ گزارا جائے
(2)عفیف اور پاکدامن رہنا
(3)جوانی میں عبادت اور بندگی کا اہتمام
(4)جوانی کے قوّت کے زمانہ کو دین کی خدمت، اعلاء کلمۃ اللہ کیلئے جہاد کرنے اور دین کی نشر و اِشاعت کے کاموں میں استعمال کرنا۔
اَدھیڑ عمر اور بُڑھاپے کے کرنے کے کام:
(1) آخرت کی تیاری۔
(2) غفلت اور بے فکری سے نکلنا۔
(3) توبہ و استغفار کرنا۔
(4) اللہ سے اُمید رکھنا۔
(5) مال کی حرص اور زندگی کی حرص سے بچتے رہنا، کیونکہ یہ دونوں چیزیں حدیث کے مطابق بوڑھے آدمی کی جوان ہوجاتی ہیں اور یہ دونوں چیزیں بڑھاپے میں انسان کے اندر پیدا ہوجاتی ہیں۔پس ان دونوں پر خاص نظر رکھنے اور بچتے رہنا چاہیئے۔
مفتی محمد سلمان زاہد کی کتابیں پڑھنے کیلئے دیکھئے: 👇👇👇
https://besturdubooks.net/tag/mufti-m...
-------------------
(بیان : بروز جمعہ ۔ 6 مارچ 2026 )
---------------------------------------
Mufti Mohammad Salman Zahid
Fazil Jamia DarulUloom Karachi
ـــــــــــــــــــــ USTAAZ ــــــــــــــــــ
JAMIA ANWAR UL ULOOM SHAD BAGH MALIR KARACHI
AL-EMAAN INSTITUTE
مفتی محمد سلمان زاھد
فاضل جامعه دار العلوم کراچی
ـــــــــــــــــــــ استاذ ــــــــــــــــــ
جامعه انوار العلوم شاد باغ ملیرکراچی
و الایمان انسٹیٹیوٹ
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: