Tasveer-e-Dard || Watan Ki Fikar Kar Nadan! || Allama Iqbal
Автор: Aakhri Paigham
Загружено: 2023-03-15
Просмотров: 19434
Описание:
Subscribe Channel & Watch Latest Videos.
For Audio Listening
https://rss.com/podcasts/tasveeredard/
Poetry : Allama Muhammad Iqbal R.A
Vocalist : Zia Mohiuddin Sahib
🎞️ Background(s):
BG Sound By: Ali Dawud (Ya Rabbi)
★ Special Thanks.
Iqbal International Society & Zia Mohiyuddin Sahib
(Bang-e-Dra-034) Tasveer-e-Dard (تصویر درد) The Portrait Of Anguish
Read full Poem at : http://iqbalurdu.blogspot.com/2011/03...
For Explaination:
https://www.iqbalrahber.com/bang-e-da...
وطن کی فکر کر ناداں! مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
ذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے، ہونے والا ہے
دھَرا کیا ہے بھلا عہدِ کُہن کی داستانوں میں
یہ خاموشی کہاں تک؟ لذّتِ فریاد پیدا کر
زمیں پر تُو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میں
نہ سمجھو گے تو مِٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو!
تمھاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں
یہی آئینِ قدرت ہے، یہی اسلوبِ فطرت ہے
جو ہے راہِ عمل میں گام زن، محبوبِ فطرت ہے
ہوَیدا آج اپنے زخمِ پنہاں کر کے چھوڑوں گا
لہُو رو رو کے محفل کو گُلستاں کر کے چھوڑوں گا
جلانا ہے مجھے ہر شمعِ دل کو سوزِ پنہاں سے
تری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گا
مگر غنچوں کی صورت ہوں دلِ درد آشنا پیدا
چمن میں مُشتِ خاک اپنی پریشاں کر کے چھوڑوں گا
پرونا ایک ہی تسبیح میں ان بکھرے دانوں کو
جو مشکل ہے، تو اس مشکل کو آساں کر کے چھوڑوں گا
مجھے اے ہم نشیں رہنے دے شغلِ سینہ کاوی میں
کہ مَیں داغِ محبّت کو نمایاں کر کے چھوڑوں گا
دِکھا دوں گا جہاں کو جو مری آنکھوں نے دیکھا ہے
تجھے بھی صورتِ آئینہ حیراں کر کے چھوڑوں گا
جو ہے پردوں میں پنہاں، چشمِ بینا دیکھ لیتی ہے
زمانے کی طبیعت کا تقاضا دیکھ لیتی ہے
کِیا رفعت کی لذّت سے نہ دل کو آشنا تو نے
گزاری عمر پستی میں مثالِ نقشِ پا تو نے
رہا دل بستۂ محفل، مگر اپنی نگاہوں کو
کِیا بیرونِ محفل سے نہ حیرت آشنا تو نے
فدا کرتا رہا دل کو حَسینوں کی اداؤں پر
مگر دیکھی نہ اس آئینے میں اپنی ادا تو نے
تعصّب چھوڑ ناداں! دہر کے آئینہ خانے میں
یہ تصویریں ہیں تیری جن کو سمجھا ہے بُرا تو نے
سراپا نالۂ بیدادِ سوزِ زندگی ہو جا
سپند آسا گرہ میں باندھ رکھّی ہے صدا تو نے
صفائے دل کو کیا آرائشِ رنگِ تعلّق سے
کفِ آئینہ پر باندھی ہے او ناداں حنا تو نے
زمیں کیا، آسماں بھی تیری کج بینی پہ روتا ہے
غضب ہے سطرِ قرآں کو چلیپا کر دیا تو نے!
زباں سے گر کِیا توحید کا دعویٰ تو کیا حاصل!
بنایا ہے بُتِ پندار کو اپنا خدا تو نے
کُنویں میں تُو نے یوسف کو جو دیکھا بھی تو کیا دیکھا
ارے غافل! جو مطلق تھا مقیّد کر دیا تو نے
ہوس بالائے منبر ہے تجھے رنگیں بیانی کی
نصیحت بھی تری صورت ہے اک افسانہ خوانی کی
دِکھا وہ حسنِ عالم سوز اپنی چشمِ پُرنم کو
جو تڑپاتا ہے پروانے کو، رُلواتا ہے شبنم کو
نِرا نظّارہ ہی اے بوالہوس مقصد نہیں اس کا
بنایا ہے کسی نے کچھ سمجھ کر چشمِ آدم کو
اگر دیکھا بھی اُس نے سارے عالم کو تو کیا دیکھا
نظر آئی نہ کچھ اپنی حقیقت جام سے جم کو
شجر ہے فرقہ آرائی، تعصّب ہے ثمر اس کا
یہ وہ پھل ہے کہ جنّت سے نِکلواتا ہے آدم کو
نہ اُٹھّا جذبۂ خورشید سے اک برگِ گُل تک بھی
یہ رفعت کی تمنّا ہے کہ لے اُڑتی ہے شبنم کو
پھرا کرتے نہیں مجروحِ اُلفت فکرِ درماں میں
یہ زخمی آپ کر لیتے ہیں پیدا اپنے مرہم کو
محبّت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہے
ذرا سے بیج سے پیدا ریاضِ طُور ہوتا ہے
دوا ہر دُکھ کی ہے مجروحِ تیغِ آرزو رہنا
علاجِ زخم ہے آزادِ احسانِ رفو رہنا
شرابِ بے خودی سے تا فلک پرواز ہے میری
شکستِ رنگ سے سیکھا ہے مَیں نے بن کے بُو رہنا
تھمے کیا دیدۂ گریاں وطن کی نوحہ خوانی میں
عبادت چشمِ شاعر کی ہے ہر دم باوضو رہنا
بنائیں کیا سمجھ کر شاخِ گُل پر آشیاں اپنا
چمن میں آہ! کیا رہنا جو ہو بے آبرو رہنا
جو تُو سمجھے تو آزادی ہے پوشیدہ محبّت میں
غلامی ہے اسیرِ امتیازِ ماوتو رہنا
یہ استغنا ہے، پانی میں نگوں رکھتا ہے ساغر کو
تجھے بھی چاہیے مثلِ حبابِ آبجو رہنا
نہ رہ اپنوں سے بے پروا، اسی میں خیر ہے تیری
اگر منظور ہے دنیا میں او بیگانہ خو! رہنا
شرابِ رُوح پرور ہے محبت نوعِ انساں کی
سِکھایا اس نے مجھ کو مست بے جام و سبو رہنا
محبّت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نے
کِیا ہے اپنے بختِ خُفتہ کو بیدار قوموں نے
بیابانِ محبّت دشتِ غربت بھی، وطن بھی ہے
یہ ویرانہ قفس بھی، آشیانہ بھی، چمن بھی ہے
محبّت ہی وہ منزل ہے کہ منزل بھی ہے، صحرا بھی
جرَس بھی، کارواں بھی، راہبر بھی، راہزن بھی ہے
مرَض کہتے ہیں سب اس کو، یہ ہے لیکن مرَض ایسا
چھُپا جس میں علاجِ گردشِ چرخِ کُہن بھی ہے
جَلانا دل کا ہے گویا سراپا نُور ہو جانا
یہ پروانہ جو سوزاں ہو تو شمعِ انجمن بھی ہے
وہی اک حُسن ہے، لیکن نظر آتا ہے ہر شے میں
یہ شیریں بھی ہے گویا، بیستوُں بھی، کوہکن بھی ہے
اُجاڑا ہے تمیزِ ملّت و آئِیں نے قوموں کو
مرے اہلِ وطن کے دل میں کچھ فکرِ وطن بھی ہے؟
سکُوت آموز طولِ داستانِ درد ہے ورنہ
زباں بھی ہے ہمارے مُنہ میں اور تابِ سخن بھی ہے
“نمیگردید کوتہ رشتۂ معنی رہا کردم
حکایت بود بے پایاں، بخاموشی ادا کردم”
Some Keywords:
tasveer e dard,tasveer e dard allama iqbal,tasveer e dard tashreeh,tasweer e dard,tasveer e dard urdu explanation,tasveer e dard english translation,tasveer e dard iqbal,tasveer e dard rekhta,allama iqbal tasveer e dard,tasweer e dard allama iqbal,allama iqbal tasweer e dard,tasweer e dard allama iqbal poetry,tasweer e dard allama iqbal poetry status,tasveer e dard poem,tasveer e dard urdu,tasveer e dard in urdu,tasveer e dard shayari,baang e dara 34
explanation,jawab e shikwa
#AllamaIqbal #AakhriPaigham #Poetry #NationalPoet #Iqbal #UrduPoetry #Quotes #Lines #Islam #Shikwa #shayari #Nazam
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: