1971 me bicharny wali bhari khatoon Najma ki Family mil gae || video call pr bat
Автор: Waliullah Maroof
Загружено: 2026-03-05
Просмотров: 1295
Описание:
1971 me Dhaka sy pakistan Any wali najma ki family 55 sal bad mil gae.
ہم جب بنگلادیش میں تھے 16 فروری کو وہاں سے ہم نےراولپنڈی کی نجمہ کے خاندان کی تلاش کے لئے پوسٹ لگائی تھی۔
نجمہ کی داستان بہت ہی عجیب و غریب اور کرب ناک ہے۔
بات کچھ یوں ہے کہ! پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کا افضل خان تقسیم بنگال سے قبل بنگلادیش میں موجود تھا۔ جو وہاں کاروبار کرتا تھا۔ نجمہ اپنے خاندان کے ساتھ انڈیا کے شہر پٹنہ سے ڈھاکہ آئی تھی۔ بہاری خاندان سے انکا تعلق تھا۔
سال 1969 کو افضل خان اور نجمہ کی ڈھاکہ میں ملاقات ہوئی۔ دونوں نے شادی کرلی۔ دو سال بعد جب حالات خراب ہو گئے تو افضل خان اپنی بیوی نجمہ کو لیکر براستہ انڈیا اپنے ملک پاکستان کے لئے روانہ ہوا۔ انڈیا میں دو سال قید ہوئے۔ پھر قیدیوں کے تبادلے میں ماں بیوی بھی پاکستان آگئے اور راولپنڈی میں بس گئے۔ ماں باپ اور بہن بھائی ڈھاکہ میں رہ گئے۔ پٹنہ میں ننھیال تھا ان سے بھی آج تک رابطہ منقطع تھا۔
نجمہ کا ایک شیرخوار بیٹا جسکا نام سرور تھا ڈھاکہ کے محمد پور کیمپ میں وفات پا چکا تھا ۔انڈیا کی جیل میں دوران قید ایک بیٹے کی ولادت ہوئی تو اس بچے کا نام بھی سرور رکھ دیا تھا۔
افضل خان اور نجمہ جب انڈین جیل سے چھوٹ کر پاکستان آئے تو گود میں ننھا سرور بھی سرحد پار آیاتھا۔ یہاں خاندان بس گیا۔ افضل خان بوڑھا ہوا بیٹا سرور جوان ہوا۔ سرور کی شادی ہوئی،بچے ہوئے۔
افضل خان دنیا سے رخصت ہوگیا۔ سرور بھی وفات پاگیا۔ نجمہ ماشاءاللہ تاحال زندہ ہے کیونکہ ہم کہتے آرہے ہیں اللہ نے جب ملانا ہوتا ہے تو پیاروں کو زندہ رکھتے ہیں۔
نجمہ کے مولود جیل بیٹے سرور مرحوم کی بیٹی نے ہم سے کچھ عرصہ قبل رابطہ کیا تھا، اور کہا تھا کہ ہماری دادی ایسے ایسے اپنے خاندان سے بچھڑ گئی ہے۔ ہمارے پورے خاندان نے بہت کوششیں کی ہیں لیکن آج تک کوئی پتہ نہیں چلا۔
ہم نے سولہ فروری کو شارٹ ویڈیو بناکر انڈیا میں ماموں کے خاندان کی تلاش کے لئے درخواست کی، یہ سوچتے ہوئے کہ انڈیا والے ملیں گے تو ان شاءاللہ ڈھاکہ میں رہ جانے والے بہن بھائیوں کا پتہ بھی مل جائے گا۔ ممکن ہے سن71 میں وہ ڈھاکہ سے پٹنہ لوٹ گئے ہوں۔
آج صبح مجھے انڈیا اور بنگلادیش کے نمبرز سے وٹس ایپ پر کالز آنا شروع ہوئیں ۔ نجمہ کی ویڈیو بھیجی کر کہنے لگے یہ ہماری خالہ ہے ہماری بات کروا دیں۔
ابھی کچھ دیر قبل بہن بھائیوں کی ملاقات 1971 کے بعد پہلی بار کرائی۔
ماں باپ 1980 میں فوت ہوچکے تھے آج نجمہ کو پتہ چلا۔ ایک بہن شادی ہوکر پٹنہ گئی تھی باقی بہن بھائی ڈھاکہ میں ہی ہیں۔
سب بہت ضعیف ہوچکی ہیں۔ ایک دوسرے کے لئے رو رو کر انکے آنسو بھی خشک ہوچکے ہیں۔
نجمہ خالص پشتو بولتی ہے اور شفاف بہاری اردو بھی۔
بہت زیادہ دعاؤں کے ساتھ ویڈیو کال گروپ سے میں نکل گیا اور وہ تاحال ماضی کی یادوں میں گم سم مصروف ہیں۔
انکی ویڈیو جلد ہمارے چینل پر ان شاءاللہ۔
اور آپ سب سے درخواست ہے ٹویٹر پر ضرور ہمیں فالو کریں تاکہ وہاں ہماری آواز توانا بنے۔
#waliullahmaroof #missingperson #bihari #familyreunion #pakistanibihari
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: