John Elia Ghazal سر ہی اب پھوڑیے ندامت میں - Archives of Abdul Hafeez Memon
Автор: Khursheed Abdullah
Загружено: 2020-01-30
Просмотров: 11760
Описание:
جون ایلیا
سر ہی اب پھوڑیے ندامت میں
نیند آنے لگی ہے فرقت میں
کراچی کلب عالمی مشاعرہ پچاسواں جشن آزادی ۱۹۹۷
اہتمام : لائبریری و ادبی کمیٹی کراچی کلب
بہ شکریہ : عبدالحفیظ میمن
سر ہی اب پھوڑیے ندامت میں
نیند آنے لگی ہے فرقت میں
ہیں دلیلیں تیرے خلاف مگر
سوچتا ہوں تیری حمایت میں
روح نے عشق کا فریب دیا
جسم کا جسم کی عداوت میں
اب فقط عادتوں کی ورزش ہے
روح شامل نہیں شکایت میں
عشق کو درمیاں نہ لاؤ کہ میں
چیختا ہوں بدن کی عسرت میں
یہ کچھ آسان تو نہیں ہے کہ ہم
روٹھتے اب بھی ہیں مروت میں
وہ جو تعمیر ہونے والی تھی
لگا گئی آگ اس عمارت میں
اپنے حجرہ کا کیا بیاں کہ یہاں
خون تھوکا گیا شرارت میں
وہ خلا ہے کہ سوچتا ہوں میں
اس سے کیا گفتگو ہو خلوت میں
زندگی کس طرح بسر ہو گی
دل نہیں لگ رہا محبت میں
جون ایلیا
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: