عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا، رضی اللہ عنہ، کیا یہ الفاظ صحیح بخاری میں ہیں ؟ [FaceOff EP-16/72]
Автор: FaceOff
Загружено: 2020-11-20
Просмотров: 2188
Описание:
عام طور اہل سنت والجماعت کا موقف یہ ہے کہ حضرت علی اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کی جنگ حق اور باطل کی جنگ نہ تھی بلکہ یہ احق یعنی زیادہ حق اور حق کی جنگ تھی، یا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اجتہادی خطا پر تھے لیکن انجینئر محمد علی مرزا نے اسے حق اور باطل کی جنگ بنایا ہے جو کہ درست نہیں ہے۔ اس کے ثبوت کے لیے انجینئر محمد علی مرزا نے صحیح بخاری کی روایت نقل کی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کی تعمیر کے موقع پر حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو کہا تھا کہ آپ کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا، عمار انہیں جنت کی طرف جبکہ وہ انہیں جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے۔
اب یہ الفاظ کہ "عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا" تو یہ صحیح بخاری کے مروجہ نسخوں میں موجود ہیں لیکن اگر آپ صحیح بخاری کے قلمی نسخوں اور ان پر محدثین کی تنقیح وتحقیق کو دیکھیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری نے یہ الفاظ یا تو اپنی صحیح میں نقل نہ کیے تھے یا نقل کر کے نکال دیے تھے کیونکہ یہ ان کے صحت کے معیار پر پورے نہیں اتر رہے تھے۔ امام ابو مسعود الدمشقی متوفی 401ھ نے اپنی کتاب "اطراف الصحیحین" میں، امام بیہقی متوفی 458ھ نے اپنی کتاب "دلائل النبوۃ" میں اور ابو عبد اللہ الحمیدی متوفی 488ھ نے اپنی کتاب "الجمع بین الصحیحین" میں لکھا ہے کہ امام بخاری رحمہم اللہ نے ان الفاظ کو اپنی صحیح بخاری میں نہیں لکھا تھا۔
ابن الاثیر الجزری متوفی 606ھ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "جامع الاصول" میں لکھا ہے کہ میں نے صحیح بخاری کا جو نسخہ ابو الوقت السجزی متوفی 553ھ رحمہ اللہ کی روایت سے پڑھا ہے، اس میں یہ الفاظ کہ عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا، متن میں موجود نہیں ہیں البتہ نسخے کے حواشی میں موجود ہیں۔ اور اس نسخے کے علاوہ صحیح بخاری کے کسی نسخے میں میں نے یہ الفاظ نہیں دیکھے ہیں، نہ متن میں اور نہ حواشی میں۔ امام مزی متوفی 742ھ رحمہ اللہ اپنی کتاب "تحفۃ الاشراف" میں اور امام ذہبی متوفی 748ھ رحمہ اللہ اپنی کتاب "تاریخ الاسلام" میں کہتے ہیں کہ یہ الفاظ صحیح بخاری میں نہیں ہیں۔
علامہ ابن حجر متوفی 773ھ اپنی کتاب "فتح الباری" میں لکھتے ہیں کہ میری رائے میں امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ الفاظ لکھ کر انہیں مٹا دیا تھا کیونکہ اس حدیث کے راوی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے خود اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے یہ الفاظ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست نہیں سنے ہیں۔ البتہ بقیہ روایت سنی ہے لیکن یہ الفاظ نہیں سنے کہ عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا۔ تو کچھ عرصے بعد صحیح بخاری کے بعض نسخوں میں وہ الفاظ حواشی میں نقل ہونا شروع ہو گئے اور بہت عرصہ بعد وہ متن کا حصہ بن گئے۔
امام بخاری رحمہ اللہ کا اپنا صحیح بخاری کا نسخہ اس وقت دنیا میں نہیں ہے۔ بخاری سے جنہوں نے صحیح بخاری لکھی ہے، ان میں معروف ترین فربری ہیں۔ فربری سے جنہوں نے بخاری لکھی ہے، ان میں معروف ترین الحمویی، المستملی اور الکشمیھنی ہیں۔ ان تینوں سے ابو ذر الہروی نے لکھی ہے۔ ابو ذر الہروی سے ابو الولید الباجی نے بخاری لکھی ہے۔ اور ابو الولید الباجی سے الصدفی نے بخاری لکھی ہے۔ اور الصدفی سے ابن سعادۃ نے بخاری لکھی ہے۔ صحیح بخاری کا یہ قدیم ترین قلمی نسخہ ہے جو اس وقت ہمارے پاس مکمل موجود ہے۔ اس کے علاوہ صحیح بخاری کے قدیم نسخے ہیں لیکن اس کے بعد کے ہیں۔ صحیح بخاری کے اس قدیم ترین قلمی نسخے (manuscript) میں یہ الفاظ موجود نہیں ہیں کہ عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا جبکہ بقیہ مکمل روایت موجود ہے۔
اس وقت پوری دنیا میں جتنی بھی صحیح بخاری پبلش ہو رہی ہے، اس کے پیچھے دو نسخے ہیں؛ یونینیہ اور ابن سعادۃ۔ یونینیہ کا نسخہ مشرق میں چلتا ہے جبکہ مغرب میں یعنی بلاد اسلامیہ کے مغرب میں ابن سعادہ کا نسخہ چلتا ہے۔ نسخہ یونینیہ سے ایک اور نسخہ تیار ہوا تھا جسے نسخہ سلطانیہ کہتے ہیں کہ جسے سلطان عبد الحمید نے تیار کروایا تھا۔ اس نسخہ سلطانیہ سے ایک اور مستند نسخہ تیار ہوا ہے۔ اس نسخے میں ہے کہ یونینیہ کے نسخے میں یہ الفاظ ہیں کہ عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا لیکن صحیح بخاری کے ابو ذر الہروی اور اصیلی کے نسخوں میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔ تو ابو ذر الہروی کا نسخہ، نسخہ یونینیہ کے مصادر میں سے ہے کیونکہ وہ اس سے پہلے ہے۔
اب صحیح بخاری جب عوامی سطح پر پبلش ہوتی ہے تو صحیح بخاری کے قلمی نسخوں کے اختلافات ذکر نہیں کیے جاتے کہ عوام شک میں پڑ جائیں گے جیسا کہ جب قرآن مجید پبلش کیا جاتا ہے تو قراءات کے اختلافات حواشی میں بیان نہیں کیے جاتے کہ وہ عوام کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ "مالک" کو "ملک" بھی پڑھ سکتے ہیں۔ لیکن جب علمی سطح پر بخاری پبلش ہوتی ہے تو اس میں حواشی میں صحیح بخاری کے نسخوں کے اختلاف کو تفصیل سے ذکر کیا جاتا ہے۔ تو صحیح بخاری کی یہ روایت ثابت ہے لیکن اس روایت میں یہ جملہ کہ عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا تو یہ ادراج ہے یعنی ایڈیشن ہے، یہ ثابت نہیں ہے۔ تو صحیح بخاری میں کوئی روایت ضعیف نہیں ہے لیکن چند الفاظ ایسے ہیں کہ جس میں راوی کو وہم ہو جاتا ہے یا وہ ادراج ہو سکتے ہیں یا شاذ ہو سکتے ہیں یا ان میں کوئی خفیہ علت ہو سکتی ہے۔
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: