Ulmae karam ki tazeem || علمائے کرام کی تعظیم || Mufti Sajid Mahmood Attock
Автор: Mufti Sajid Mahmood Attock
Загружено: 2022-03-07
Просмотров: 97
Описание:
دین اسلام ابدی اورلازوال دین ہے جو قیامت تک باقی رہنے والاہے، اس دین کو باقی رکھنے کے لیے اللہ نے جہاں کتاب کو نازل کیا وہیں کتاب کی تفہیم و تشریح کے لیے افراد و اشخاص کو بھی پیدا کیا ہے، جو کتاب اور اس کے احکام کی مکمل حفاظت کرتے ہیں اور اس کے مسائل سے انسانو ں کو واقف کراتے ہیں ، زمانے کے حالات کے تناظر میں اس میں غورو فکر کرکے مسائل مستنبط کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعددین وایمان کی یہ ذمہ داری ایسے افراد کے ہاتھ آئی جنہیں حدیث کی روشنی میں ”علماء“ کہا جاتا ہے،یہ وہ پاک طینت افراد ہیں جنہوں نے جہد مسلسل اور عمل پیہم کے ذریعہ دین کی حفاظت کا بیڑہ اٹھا یا ، دین اسلام پر وارد ہونے والے ہر اعتراض کا قرآن و حدیث کی روشنی میں دفاع کیا، اس کے لیے ہر طرح کی قربانی انہوں نے پیش کی اور کبھی بھی دین کی حفاظت و اشاعت سے غفلت و سستی نہیں برتی ،یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں علمائے کرام کی خوب ستائش کی گئی اور ان کے مقام و مرتبہ کو بتلایا گیا اور انہیں عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھا گیا اور ان کی اہمیت و فضیلت کو اجاگر کیا گیا ، چناں چہ قرآن مجید میں اللہ نے فرمایا:﴿قُلْ ہَلْ یَسْتَوِی الَّذِینَ یَعْلَمُونَ وَالَّذِینَ لَا یَعْلَمُونَ ﴾ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ ( ان سے پوچھیے کہ )کیا عالم و جاہل دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟ (الزمر :9)اسی طرح ایک مقام پر فرمایا کہ:﴿ یَرْفَعِ اللَّہُ الَّذِینَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَالَّذِینَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ﴾ اللہ تعالی (دنیا وآخرت میں)بلند درجات عطا فرمائے گا ان مومنین کو جو اطاعت گذار ہیں اور اہل علم یعنی علماء کو۔ (المجادلة:11) بندوں میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والے علماء ہی کو بتلایا گیا۔ (الفاطر:16) کسی چیز کی جان کاری کے لیے انہیں کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا گیا۔ (النحل :43)
احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح انداز میں علماء کی فضیلت کو بیان کیا ہے اور ان کی ناقدری کرنے والوں ، ان کی توہین کرنے والوں اور ان سے بغض رکھنے والوں کے بارے میں بڑی سخت وعیدیں ذکر کی ہیں، چناں چہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے میری فضیلت تم میں کے ادنی پر ، پھر فرمایا : اللہ تعالی اس کے فرشتے ، آسمان و زمین والے، حتی کہ چیونٹیاں اپنے بلوں میں اور مچھلیاں پانی میں عالم کے لیے خیر اور بھلائی کی دعاکرتی ہیں۔(ترمذی حدیث نمبر:2685) ۔
آج کل علمائے کرام کی جو ناقدری ،ان کے ساتھ بے ادبی و گستاخی اور انہیں برا بھلا کہنے کا جو رواج بنتا جارہا ہے اس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے، غیر تو غیر، اپنوں نے بھی علماء کو تنقید کا نشانہ بنالیا ہے ، جس کسی مجلس میں بیٹھیں گے جب تک کسی عالم کے خلاف اپنے دل کی بھڑاس نہ نکالیں گے انہیں چین و سکون میسر نہیں آتا ، جب کہ اسلام نے اختلاف رائے رکھنے کے بارے میں اصول و ضوابط بتائے ہیں، حدود قیود متعین کیے ہیں، شائستگی اور سنجیدگی سے اختلاف کرنے کا طریقہ سکھلایا ہے، بے ادبی، سطحیت، تذلیل، حقارت اور توہین کو کسی صورت جائزقرار نہیں دیا ہے،کسی بھی ناگہانی بات پر گفت و شنید کا موقع فراہم کیا ہے ،احسن طریقہ پر بحث و مباحثہ کا حکم دیا ہے، اس کے بجائے توہین آمیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے تحقیر و تذلیل کرنا انتہائی بد اخلاقی ہے، ان باتوں سے اہل علم کی شان میں کوئی کمی نہیں آئے گی، البتہ اپنا ہی خسارہ اور نقصان ہے۔ علماء پر بہتان لگانا اور سنی سنائی باتوں کو ان کی طرف منسوب کرنا اور ہر محفل میں زبان درازی کر کے اپنی علمی شان اور رفعت ِ مکانی ظاہر کرنا مناسب نہی ۔
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: