انتظار کا مفہوم روایاتِ معصومین علیہم السلام کی نگاہ میں
Автор: Taqi Hashmi Official
Загружено: 2022-03-16
Просмотров: 101
Описание:
🔴انتظار عمل کا نام ہے
[دو روایتیں]
1️⃣پہلی روایت:
أَنَّ رَسُولَ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ قَالَ : أَفْضَلُ أَعْمَالِ أُمَّتِي اِنْتِظَارُ اَلْفَرَجِ مِنَ اَللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ.
(بحار الأنوار ، ج ۵۲، ص ۱۲۸)
✍️ترجمہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
میری امت کے افضل ترین اعمال میں سے کشادگی(یعنی حجتِ قائم ع ظہور) کا انتظار کرنا ہے۔
♻️نوٹ: اس حدیث میں انتظار کو اعمال میں سے قرار دیا ہے یعنی انتظار فقط دلی کیفیت کا نام نہیں ہے بلکہ انتظار عمل کا نام ہے۔ اب انتظار میں کونسے اعمال انجام دینے ہیں تو اس کو امام صادق علیہ السلام نے ابوبصیر سے یوں بیان فرمایا:
2️⃣دوسری روایت:
ابو بصیر کی امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے:
عَنْ أَبِي بَصِيرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ :قال مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ اَلْقَائِمِ فَلْيَنْتَظِرْ وَ لْيَعْمَلْ بِالْوَرَعِ وَ مَحَاسِنِ اَلْأَخْلاَقِ وَ هُوَ مُنْتَظِرٌ فَإِنْ مَاتَ وَ قَامَ اَلْقَائِمُ بَعْدَهُ كَانَ لَهُ مِنَ اَلْأَجْرِ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ أَدْرَكَهُ
(الغيبة (للنعمانی) ج ۱، ص ۲۰۰)
ترجمہ:
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
جس کو یہ بات خوشی دیتی ہے کہ وہ قائم (عجل اللہ فرجہ الشریف) کے اصحاب میں سے ہو تو پس اس پر ضروری ہے کہ وہ انتظار کرے اور ورع (تقوی) اور اچھے اخلاق پر عمل کرے، پس اگر وہ اسی انتظار کی حالت میں مر گیا اور اس کے بعد حجتِ قائم علیہ السلام کا ظہور ہو تو ایسے شخص کو وہی اجر و ثواب ملے گا کہ جس نے حجتِ قائم علیہ السلام کو پا لیا ہو۔
♻️نوٹ: تقوی کا پہلا درجہ تمام واجبات پر عمل کرنا ہے اور تمام گناہ کے کاموں سے خود کو بچانا ہے جبکہ ورع کا درجہ اس سے بہت بلند ہے کہ جس میں مشکوک اور مشتبہ قسم کے کاموں سے بھی اجتناب کیا جاتا ہے۔
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: