Poshto bayan / Molana Idrees Sab / Islamic videos / Islamic stories/مکہ سے مدینہ کے ہجرت کا واقعہ
Автор: Life of Islamic 3M
Загружено: 2026-02-20
Просмотров: 580
Описание:
Muhammad ﷺ کی حیاتِ طیبہ کا سب سے فیصلہ کن اور تاریخ ساز واقعہ ہجرتِ مدینہ ہے۔ یہ محض ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف سفر نہیں تھا، بلکہ یہ ایک عظیم انقلاب کی ابتدا تھی جس نے انسانی تاریخ کا دھارا بدل دیا۔ مکہ کی وادیوں سے مدینہ کی سرزمین تک کا یہ سفر صبر، استقامت، حکمت اور کامل توکل علی اللہ کی بے مثال داستان ہے۔
مکہ مکرمہ میں جب آپ ﷺ نے توحید کا پیغام بلند کیا تو قریش کے سرداروں کو یہ دعوت اپنے مفادات کے خلاف محسوس ہوئی۔ بت پرستی، ظلم اور معاشرتی ناانصافی پر قائم نظام کو خطرہ لاحق ہو گیا۔ چنانچہ اہلِ ایمان پر ظلم و ستم کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔ کمزور مسلمانوں کو تپتی ریت پر لٹایا گیا، بھوک اور پیاس سے ستایا گیا، اور معاشی و سماجی بائیکاٹ کیا گیا۔ مگر اس کے باوجود ایمان کی شمع بجھ نہ سکی۔
جب ظلم اپنی انتہا کو پہنچا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو ہجرت کا حکم دیا۔ اس سے پہلے مدینہ (اس وقت یثرب) کے لوگوں نے بیعتِ عقبہ کے موقع پر آپ ﷺ کو دعوت دی تھی کہ آپ ان کے شہر تشریف لائیں اور وہ آپ کی حفاظت کریں گے۔ یہ بیعت دراصل اسلام کے لیے ایک محفوظ مرکز کی بنیاد تھی۔ چنانچہ اللہ کے حکم سے مسلمانوں کو آہستہ آہستہ مدینہ کی طرف ہجرت کی اجازت دی گئی۔
قریش کو جب معلوم ہوا کہ مسلمان خاموشی سے مکہ چھوڑ رہے ہیں تو وہ پریشان ہو گئے۔ انہوں نے دارالندوہ میں مشورہ کیا اور فیصلہ کیا کہ (نعوذ باللہ) آپ ﷺ کو شہید کر دیا جائے تاکہ یہ دعوت ختم ہو جائے۔ مگر اللہ تعالیٰ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ اسی رات آپ ﷺ نے اپنے بستر پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سُلایا اور خود اپنے رفیقِ خاص حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ سے روانہ ہو گئے۔
راستے میں آپ ﷺ اور حضرت ابو بکرؓ نے تین دن تک غارِ ثور میں پناہ لی۔ جب کفار تلاش کرتے ہوئے غار کے دہانے تک پہنچ گئے تو حضرت ابو بکرؓ کو فکر ہوئی، مگر آپ ﷺ نے فرمایا: “لا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا” (غم نہ کرو، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے)۔ یہ الفاظ یقین اور توکل کی اعلیٰ ترین مثال ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اور وہ ناکام لوٹ گئے۔
اس کے بعد دونوں حضرات نے ایک ماہر راہبر کی مدد سے مدینہ کا سفر جاری رکھا۔ راستے میں کئی معجزانہ واقعات پیش آئے، جن میں سراقہ بن مالک کا واقعہ بھی شامل ہے، جو آپ ﷺ کو پکڑنے نکلا تھا مگر اللہ کی قدرت دیکھ کر ایمان لے آیا یا کم از کم باز آ گیا۔ بالآخر کئی دنوں کے سفر کے بعد آپ ﷺ مدینہ کے قریب قبا کے مقام پر پہنچے، جہاں چند دن قیام فرمایا اور پہلی مسجد، مسجدِ قبا کی بنیاد رکھی۔
جب آپ ﷺ مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو اہلِ مدینہ خوشی سے جھوم اٹھے۔ بچے، بوڑھے اور عورتیں سب استقبال کے لیے نکل آئے۔ “طلع البدر علینا” کی صدائیں فضا میں گونجنے لگیں۔ یہ منظر تاریخ کا ایک حسین اور یادگار لمحہ تھا۔ مدینہ کی گلیاں نور سے جگمگا اٹھیں اور ایک نئی اسلامی ریاست کی بنیاد رکھ دی گئی۔
مدینہ پہنچ کر سب سے پہلا عظیم کام مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخات (بھائی چارہ) قائم کرنا تھا۔ اس اقدام نے معاشرتی ہم آہنگی اور باہمی تعاون کی ایسی مثال قائم کی جس کی نظیر تاریخ میں کم ملتی ہے۔ انصار نے اپنے گھروں، مال اور زمینوں کو مہاجر بھائیوں کے ساتھ بانٹ لیا۔ یوں ایک ایسا معاشرہ وجود میں آیا جو اخوت، عدل اور تقویٰ پر قائم تھا۔
ہجرت کا واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ دین کی سربلندی کے لیے قربانی ناگزیر ہے۔ گھر، مال، زمین اور رشتہ دار سب کچھ چھوڑ دینا آسان نہیں ہوتا، مگر اللہ کی رضا کے لیے سب کچھ قربان کر دینا ہی اصل کامیابی ہے۔ ہجرت کے بعد اسلامی کیلنڈر کا آغاز بھی اسی واقعے سے کیا گیا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ واقعہ اسلام کی تاریخ میں کس قدر اہمیت رکھتا ہے۔
ہجرت محض ماضی کا واقعہ نہیں، بلکہ ہر دور کے مسلمانوں کے لیے پیغام ہے کہ جب حالات سخت ہو جائیں تو مایوس ہونے کے بجائے حکمت، صبر اور توکل سے کام لیا جائے۔ ظلم کا اندھیرا جتنا بھی گہرا ہو، اللہ کی مدد ضرور آتی ہے۔ مکہ کی کمزوری مدینہ کی طاقت میں بدل گئی، اور چند ہی برسوں میں وہی مدینہ اسلام کا مرکز بن گیا جہاں سے عدل و رحمت کا پیغام پوری دنیا میں پھیلا۔
یہی وہ ہجرت تھی جس نے ایک مظلوم جماعت کو باوقار امت میں تبدیل کر دیا۔ یہی وہ سفر تھا جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ اور یہی وہ سبق ہے کہ اگر نیت خالص ہو، مقصد بلند ہو اور بھروسہ اللہ پر ہو، تو ناممکن بھی ممکن بن جاتا
ہے۔
ہیش ٹیگز:
#ہجرت_نبوی ﷺ
#ہجرت_مدینہ
#سیرت_النبی ﷺ
#اسلامی_تاریخ
#غار_ثور
#مدینہ_منورہ
#ایمان_اور_قربانی
#توکل_علی_اللہ
#اسلامی_واقعہ
#رحمت_للعالمین ﷺ
The migration to Madinah was a decisive and history-making event. It was not merely a journey from one city to another; rather, it was the beginning of a عظیم revolution that changed the course of human history. From the valleys of Makkah to the land of Madinah, this journey stands as a remarkable story of patience, steadfastness, wisdom, and complete trust in Allah.
When Prophet Muhammad ﷺ proclaimed the message of Tawheed (the Oneness of God) in Makkah, the leaders of Quraysh felt that this call threatened their interests. Their system, built upon idol worship, oppression, and social injustice, was in danger. As a result, a relentless wave of persecution began against the believers. Weak Muslims were laid on the burning sands, tortured with hunger and thirst, and subjected to economic and social boycott. Yet despite all this, the flame of faith could not be extinguished.
When oppression reached its peak, Allah commanded His beloved Prophet ﷺ to migrate. Before this, the people of Madinah (then known as Yathrib) had invited him during the Pledges of ‘Aqabah, promising protection and support.
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: