Abu jahl ka takabur
Автор: Nts Media Officialاین ٹی ایس میڈیا آفیشل
Загружено: 2025-01-12
Просмотров: 3339
Описание:
Abu jahl ka takabur
#حضرت عبداللہ بن مسعود رض کا جہادی کارنامہ #allamaattaullahbandyalvi
ابوجہل کی اسلام دشمنی کا عام چرچا تھا اس بناپرانصارمیں سے دوبھائیوں معاذ رضی اللہ تعالی عنہہ اور معوذ رضی اللہ تعالی عنہہ نے عہدکیا تھاکہ یہ شقی جہاں نظرآئے گا اس کومٹادیں گے یہ دونوں صحابی ابھی کم عمر ہی تھے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہہ کا بیان ہے کہ غزوۂ بدرمیں صف میں تھاکہ دفعتاً مجھ کو دائیں بائیں دونوجوان نظرآئے اورمجھ سے کان میں پوچھا :چچاجان ابوجہل کون ہے؟ میں نے کہا برادر زادے ابوجہل کوپوچھ کرکیا کرے گا؟بولا میں نے خدا سے عہدکررکھا ہے کہ ابوجہل کو جہاں دیکھوں گا اسے قتل کرکے چھوڑوںگا میں ابھی جواب نہیں دے پایاتھاکہ دوسرے نوجوان نے مجھ سے کان میں یہی بات کہی میں نے دونوں کواشارے سے بتایا کہ ابوجہل وہ ہے یہ بتانا تھاکہ دونوں بازکی طرح جھپٹے اور ابو جہل کو کھینچ کر گھوڑے سے نیچے گرایا ، تھوڑی دیر بعد ابوجہل خاک پرتھا۔یہ جوان عفرا کے بیٹے تھے غزوہ ختم ہونے پرحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ کوئی جاکرخبر لائے کہ ابوجہل کاکیا انجام ہوا؟ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہہ نے جاکرلاشوں میں دیکھاتو زخمی پڑاہوادم توڑرہاتھا بولے توابوجہل ہے اس نے کہا ایک شخص کو اس کی قوم نے قتل کردیا تو یہ فخرکی کیا با ت ہے یہ کہہ ہی رہا تھا کہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہہ نے ابوجہل کی گردن پرپائوں رکھااور چھلانگ لگاکر اس کی چھاتی پرچڑھ بیٹھے ابوجہل نے کہا: اوبکری چرانے والے !دیکھ تو کہاں پائوں رکھتا ہے۔
فرمایا:کہ تو وہ وقت بھول گیا جب میں بفرمان نبوی تیرے لئے وعیدکی آیت لے کرتیرے پاس گیا تھا تو تونے مجھے تھپڑماراتھا اور لاتوں سے خوب پیٹاتھا اب تیری ذلت کاسامان میرے ہاتھوں ہی ہوگا۔
’’ابوجہل نے پوچھا: فتح کس کی ہوئی؟ ابن مسعود رضی اللہ تعالی نے کہا:اللہ اوراس کے رسول کی ابوجہل کہنے لگا:اپنے نبی سے کہنا کہ میں اپنے مذہب پراب بھی قائم ہوں اورتجھ پرایمان نہیں لایا اورکہا کہ میرا سرذرا گردن کے نچلے حصے سے کاٹنا تاکہ قریش کے بقیہ سرداروں میں میرا سراونچا دکھائی دے اورکہا کاش میرا سرکوئی ہاشمی جوان کاٹتا۔
حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہہ نے ابوجہل کاسرکاٹ کر اس کی ناک میں رسی ڈال کر اورپیشانی کے بل گھسیٹتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈال دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس کی اس کیفیت کوپہلے ہی بیان فرمادیا تھا۔
’’ہاں ہاں اگر بازنہ آیاتوضرور ہم پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے
فرعون نے تو مرتے وقت کہہ دیا تھا کہ میں موسی اور اس کے رب پر ایمان لایا لیکن یہ ملعون مرتے وقت بھی تکبر اور غرور کا اظہار کر گیا ۔
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: