All Pakistan mehfile miladunabi Saw pirmahal events Bayan
Автор: Zahidstudio1975
Загружено: 2025-11-21
Просмотров: 11
Описание:
چین کا نیا اے آئی ماڈل (Kimi K2) جس نے GPT-5 کو پیچھے چھوڑ دیا۔
چین کی کمپنی مون شاٹ نے اپنا نیا ماڈل کِمی K2 Thinking متعارف کرایا ہے، جس نے کارکردگی کے میدان میں اوپن اے آئی کے GPT-5 اور اینتھراپک کے Claude Sonnet 4.5 دونوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہ کامیابی ماہرین کے مطابق وہی لمحہ ہے جسے اب “نیا DeepSeek لمحہ” کہا جا رہا ہے۔
مون شاٹ Moonshot AI، جو علی بابا اور ٹینسینٹ کی پشت پناہی والی کمپنی ہے، نے K2 Thinking کو 6 نومبر 2025 کو اوپن سورس کے طور پر جاری کیا ہے۔ یہ ایک تھنکنگ ایجنٹ ماڈل ہے جس کی خصوصیات اور کارکردگی نے ماہرین کو سرپرائز دیا ہے۔
یہ ماڈل نہ صرف اپنی طاقت بلکہ اپنی سستی لاگت کی وجہ سے بھی حیران کن ہے۔ رپورٹوں کے مطابق اس کی تربیت پر صرف چار اعشاریہ چھ ملین ڈالر لاگت آئی، جو امریکی ماڈلز کے مقابلے میں دس گنا کم ہے۔ ماڈل کی ساخت Mixture-of-Experts پر مبنی ہے، یعنی ایک ٹریلین پیرامیٹرز میں سے صرف بتیس ارب ایک وقت میں فعال رہتے ہیں۔ اس سے رفتار میں دوگنا اضافہ اور کارکردگی میں زبردست بہتری آتی ہے۔
کارکردگی کے لحاظ سے یہ ماڈل حیرت انگیز نتائج دے رہا ہے۔ Humanity’s Last Exam جیسے مشکل ترین ٹیسٹ میں کِمی K2 نے چوالیس اعشاریہ نو فیصد اسکور حاصل کیا، جب کہ GPT-5 چالیس فیصد سے کچھ ہی اوپر رہا۔ اسی طرح BrowseComp بینچ مارک میں ساٹھ فیصد سے زائد کامیابی ملی، جو ویب سرچ اور معلوماتی تجزیے کی صلاحیت کا امتحان ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ماڈل مکمل طور پر اوپن سورس ہے۔ یعنی کوئی بھی تحقیقاتی ادارہ یا ڈویلپر اسے اپنے سسٹم میں شامل کر سکتا ہے۔ البتہ ایک شرط رکھی گئی ہے کہ اگر کوئی کمپنی اس ماڈل کو سو ملین سے زیادہ صارفین یا بیس ملین ڈالر ماہانہ آمدنی والے پلیٹ فارم پر استعمال کرے تو اسے “Kimi K2” کو کریڈٹ لازمی دینا ہو گا۔
تکنیکی لحاظ سے یہ ماڈل مسلسل سوچنے اور مربوط نتائج نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دو سو سے تین سو مراحل تک خودکار فیصلے لے سکتا ہے، بغیر کسی انسانی مداخلت کے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ چینی اے آئی ماڈلز اب محض نقل نہیں بلکہ تخلیقی سطح پر عالمی معیار کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
بعض محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کارکردگی کے لحاظ سے ابھی چند ماہ کا فاصلہ باقی ہے، لیکن چین کے کھلے ماڈلز اتنی تیزی سے ترقی کر رہے ہیں کہ امریکی برتری کو برقرار رکھنا آسان نہیں ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ اب دنیا بھر کے ماہرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا مستقبل کی سب سے ذہین مشین بیجنگ سے جنم لے گی یا سیلیکون ویلی سے۔
یہ تحریر اے آئی دینا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔
#aikiduniya #AI#unfrezzmyaccount #sehar #unfrez
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: