د شرک قسمونہ ) مفتی منیر شاکر د اصلاح نہ ڈک بیان ) mufti Muneer shakir sahb
Автор: haq_ki_awaz
Загружено: 2025-12-27
Просмотров: 2417
Описание:
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
🌿 جن چیزوں کا قرآن میں ذکر*، *نہیں، ہمیں ان کا فکر نہیں 🌿
(قرآن کی روشنی میں ایک آسان اور اصلاحی وضاحت)
🔹 1. قرآن مکمل رہنمائی کی کتاب ہے
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
مَّا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِن شَيْءٍ
(الأنعام 6:38)
“ہم نے اس کتاب میں کوئی چیز چھوڑی نہیں۔”
یعنی زندگی کے ہر ضروری پہلو کے بارے میں قرآن میں رہنمائی موجود ہے۔
اس لیے اگر کوئی بات قرآن میں نہ ہو — تو وہ ہماری ہدایت کے لیے ضروری نہیں۔
💡 سمجھنے کی بات:
قرآن منزل کی روشنی ہے۔ اگر روشنی میں کچھ نظر نہیں آتا، تو اس کا مطلب ہے وہ چیز راہ کا حصہ نہیں۔
🔹 2. دین صرف وہی ہے جو اللہ نے نازل کیا
إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ
(یوسف 12:40)
“حکم صرف اللہ کا ہے۔”
اس کا مطلب یہ ہے کہ:
دین میں صرف وہی بات مانی جائے جو اللہ نے نازل کی ہو۔
جو بات قرآن میں نہیں، وہ اللہ کا حکم نہیں۔
اگر ہم دین میں اپنی طرف سے باتیں شامل کریں گے —
تو وہ اللہ کی نہیں بلکہ انسان کی بنائی ہوئی دین بن جائے گی۔
🔹 3. دین مکمل ہو چکا ہے
ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ
(المائدہ 5:3)
“آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا۔”
جب اللہ نے خود فرمایا کہ دین مکمل ہو گیا،
تو اب کسی انسان کو اس میں کمی یا اضافہ کرنے کا حق نہیں۔
💡 سادہ اصول:
جو قرآن میں ہے = دین ہے ✅
جو قرآن میں نہیں = دین نہیں ❌
🔹 4. غیر قرآنی باتوں میں پڑنا گمراہی کا سبب
وَمَن لَّمۡ يَحۡكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَٰفِرُونَ
(المائدہ 5:44)
“جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا، وہی کافر ہیں۔”
یعنی:
اگر ہم قرآن کے مطابق نہیں جیتے،
یا قرآن کی جگہ کہانیوں، روایات، یا رسموں کو اہمیت دیتے ہیں،
تو ہم ہدایت سے دور ہو جاتے ہیں۔
🔹 5. ہر اختلاف کا حل قرآن میں ہے
فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ
(النساء 4:59)
“اگر کسی معاملے میں اختلاف ہو تو اسے اللہ (یعنی قرآن) کی طرف لوٹاؤ۔”
یہ ایک عظیم اصول ہے:
جب بھی دین، عبادت، یا کسی رسم میں اختلاف ہو
تو ہم صرف دیکھیں کہ قرآن کیا کہتا ہے۔
جو بات قرآن میں نہیں، وہ قابلِ عمل نہیں۔
🔹 6. قرآن سے باہر کا دین، انسان کا خود ساختہ دین ہے
قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ دین اللہ کے بتائے ہوئے نظامِ اطاعت پر قائم ہے،
نہ کہ انسانوں کی لکھی ہوئی روایات یا عقائد پر۔
اگر کوئی کہے:
“یہ بات قرآن میں نہیں مگر فلاں بزرگ یا روایت میں ہے”
تو سمجھ لیں کہ وہ اللہ کا نہیں، انسان کا بنایا ہوا راستہ ہے۔
🔹 7. اصلاحی پیغام: قرآن کو واحد معیار بناؤ
ہمارا ایمان اسی وقت مضبوط ہو سکتا ہے جب:
ہم ہر بات سے پہلے قرآن سے پوچھیں۔
اگر قرآن خاموش ہے، تو ہم بھی خاموش رہیں۔
دین میں صرف وہی کریں جو قرآن میں واضح ہے۔
وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ
(التغابن 64:11)
“جو اللہ پر ایمان رکھتا ہے، اللہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے۔”
🌿 نتیجہ:
1. قرآن مکمل اور محفوظ ہدایت ہے۔
2. جو بات قرآن میں نہیں، وہ ہمارے لیے دینی فرض نہیں۔
3. ہر اختلاف، ہر سوال، اور ہر عقیدہ قرآن کی روشنی میں پرکھو۔
4. انسان کا بنایا ہوا دین ہمیشہ فرقوں میں بانٹ دیتا ہے،
جبکہ قرآن کا دین سب کو ایک امت بناتا ہے۔
✨ خلاصہ برائے اصلاحِ عوام
اصول وضاحت
قرآن مکمل ہدایت ہے جو چیز قرآن میں نہیں، وہ ضروری نہیں
حکم صرف اللہ کا ہے دین میں انسان کو دخل کا حق نہیں
دین مکمل ہو چکا ہے اب کسی اضافے کی ضرورت نہیں
اختلاف کا حل قرآن ہے صرف قرآن سے فیصلہ کرو
غیر قرآنی دین گمراہی ہے بدعات اور رسومات قرآن سے باہر ہیں۔
رَبِّ اَعُوۡذُ بِكَ مِنۡ هَمَزٰاتِ الشَّيٰطِيۡنِ
وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: