Part-1 Visit and Enjoy with friends Baghsar fort in Bhimber Azad Kashmir | Kashmir forts
Автор: AH new city
Загружено: 2021-10-05
Просмотров: 61
Описание:
تاریخ کے جھروکوں سے۔۔۔۔۔۔۔قلعہ باغسر”
(کتنی حقیقت، کتنا فسانہ)
تحریر: مدثر یوسف پاشا
وہ تاریخی آثار جن کے بارے میں واضح اور مصدقہ ریکارڈ موجود ہو۔ ان کے تعمیر کنندہ اور سن تعمیر تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں لیکن کچھ عمارتیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان پر کوئی ایسا نشان نہیں ہوتا جو یہ ظاہر کرتا ہو کہ وہ کب، کس نے تعمیر کیں۔ آخر ان کے بارے میں درست معلومات کا ذریعہ کونسا ہے؟ ایسی حالت میں ان کی طرز تعمیر اور غیر جانبدار مصنفین کی تحریریں ہی ایسا ثبوت ہیں جن پر ہم بھروسہ کر سکتے ہیں۔ ایسی ہی ایک تاریخی عمارت واسی سماہنی کے مشرق میں قلعہ باغسر کی ہے جسکی تعمیر کے بارے میں لوگوں کو درست معلومات نہیں ہیں۔ قلعہ کی تعمیر کب ہوئی؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ قلعے حکمرانوں نے ایسی جگہوں پر تعمیر کروا رکھے تھے جو گزر گاہیں تھیں انکی حفاظت کیلیے قلعے تعمیر کروائے جاتے رہے۔ ریاست جموں و کشمیر اور برصغیر پاک و ہند کے درمیان جو گزر گاہیں ان کی حفاظت کیلیے جو قلعے تعمیر کیے گئے وہ زیادہ تر مغل دور میں تعمیر نہیں ہوئے کیونکہ مغل سلطنت کابل، قندھار سے سندھ، مکران کے ساحلوں اور بنگال دکن جیسے دور دراز علاقوں میں پھیلی ہوئی تھی۔
اسوقت جو قلعے تعمیر ہوئے ان میں اٹک، رہتاس، لاہور، دھلی اور اس طرح کے کئی ایک قلعے مغلوں نے ان گزر گاہوں پر تعمیر کیے جن کے ذریعے دہلی پہنچا جا سکتا تھا۔ مغلوں کو کشمیر میں چھوٹے لیکن مضبوط قلعوں کی زنجیر بنانے کی قطعا کوئی ضرورت نہ تھی اس لیے مغل شہنشاہ اکبر نے سری نگر میں صرف ایک قلعہ تعمیر کروایا اور وہ بھی ریاست میں داخل ہونے والے راستوں میں سے کسی پر نہیں ہے۔
باغسر کے علاوہ جموں و کشمیر کے تاریخی قلعوں کا مختصر تعارف
۱۔ قلعہ منگلا (گکھڑوں نے تعمیر کروایا)
۲۔ قلعہ تقلو (ضلع میرپور میں گکھڑوں نے تعمیر کروایا)
۳۔ قلعہ تھروچی (منگراں حکمرونوں نے تعمیر کروایا)
۴۔ قلعہ کرجاہی۔قلعہ کر جاھی۔ قلعہ بھیرنڈ (وادی بناہ کے شمال۔ کہوٹہ، پنجاڑ اور سہنسہ سے مغرب میں تعمیر کروائے گئے)
۵۔ قلعہ بارل اور منگ 1834ء سے 1839ء کے درمیان ڈوگروں نے سدھن قبائل پر قابو پانے کیلیے تعمیر کروائے۔
۶۔ سرخ قلعہ مظفرآباد، دریائے نیلم کے کنارے دب گلی کی حفاظت کیلیے مقامی حکمرانوں نے تعمیر کروایا۔
۷۔ قلعہ پڈھار (ڈوگرہ عہد میں اعوان شریف کے راستہ کے دفاع کیلیے تعمیر کیا گیا)
۸۔ قلعہ باغسر (اس قلعہ کا ابتدائی نام امر گڑھ تھا)
۹۔ قلعہ باھو(دریائے توی کے کنارے مقامی حکمرانوں نے تعمیرکروایا)
۰۱۔ تریہہ گام (موضع شاہ پورہ کے نزدیک گلاب سنگھ کر تاہ کے حکمران راجا شیر احمد خان کے حملوں سے بچنے کیلیے تعمیر کروایا تھا))
Continue Part-ii
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: