Ek Roza Adabi Conference | Gauher Ghar | Second session | Faisal Rehan | فیصل ریحان | گوھر گھر
Автор: Gauher Ghar - Literature . Music . Art
Загружено: 2023-03-13
Просмотров: 196
Описание:
پہلی ایک روزہ کانفرنس ۔ تعارف
اس کانفرنس کے انعقاد کی ضرورت کیسے پیش آئی اور اس کے مختلف حصوں کے پس پشت کیا سوچ پنہاں ہے اس حوالے سے قارئین کی آگاہی از بس لازم ہے ۔
کوئٹہ سمیت اس وقت پوری ادبی فضا کئی حوالے سے بوجھل پن اور کسی حد تک مایوسی کا شکار دکھائی دے رہی ہے ۔ہمارے ہاں ایسی کانفرنسز کا فقدان رہا ہے جو ادب اور ادیبوں کی حقیقی سراہیتا کرے اور خالصتا ادبی مسائل کو موضوع بنائے ۔ادب زیادہ تر سیاست یا کسی اور موضوع کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ان تمام تناظرات کے پیش نظر اس کانفرنس کا پہلا اور اہم محرک خالصتا ادبی کانفرنس کا انعقاد ہے ۔
ادب کے مختلف پہلوؤں پر مکالمہ عصر حاضر کی اہم ضرورت ہے لیکن اس حوالے سے زیادہ تر اور کم و بیش ہر طرف مکمل خاموشی دکھائی دیتی ہے ۔مکالمے کی عدم موجودگی کے باعث ادب محض وقت گزاری یا ایک بے کار کی سرگرمی متصور ہونے لگا ہے۔ موجودہ عہد میں ادبی تخلیقات تو کثرت سے سامنے آ رہی ہیں لیکن ان میں کسی سمت یا مقصد کا فقدان ہے ۔اپنے عصر کا شعور بھی ہمارے ادیبوں میں نہ ہونے کے برابر ہے ۔اس کانفرنس کے انعقاد کے پس منظر میں یہی تمام محرکات بالخصوص موجود ہیں۔ موجودہ عہد میں ادب کی تخلیق اور ترویج پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گئی ہے ۔معاشرے میں موجود تاریکی ،مایوسی ،نفسیاتی عارضوں ،انتشار اور بے سمتی کو کم کرنے میں جو کردار ادب ادا کر سکتا ہے وہ دیگر پلیٹ فارمز کے بس کی بات نہیں ۔چناں چہ ادب کی اہمیت کو معاشرتی سطح پر اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔گوھر گھر اس نئے سلسلے کے ذریعے ان تمام مباحث کے آغاز کی سعی کر رہا ہے جس پر مکالمہ آج کی اصل ضرورت ہے۔
گوھر گھر کے زیرِ اہتمام ایک روزہ ادبی کانفرنس چار مختصر سیشنز پر مشتمل رہی ۔
پہلا سیشن اہم تنقیدی استفہامیوں سے متعلق رکھا گیا جس میں نوجوان نقاد اویس معلوم نے “موجودہ عہد میں خوف زدہ ادب اور تخلیقی ذمّہ داری” کے عنوان پر اپنا تنقیدی مقالہ پیش کیا ۔تنقیدی سوالات پر غور و فکر کے بغیر کسی بڑے تخلیقی کارنامے کا وقوع ہونا ممکن نہیں ۔
دوسرا حصہ مکالمے پر مشتمل ہے جب تک ادب کے اہم پہلوؤں پر مکالمہ نہیں ہوگا ادب کی ترویج کے لیے راہ ہموار نہیں ہوگی نہ ہی قارئین کی ذہنی سازی ممکن ہے۔ کانفرنس کا تیسرا حصہ شعری نشست پر مبنی ہے ۔شعری نشست کے لیے پانچ شاعروں کو منتخب کیا گیا ہے ، یہاں مشاعرے اور شعری نشست کا فرق واضح کرنا ضروری ہے ہمارے ہاں مشاعرہ بھی ایک وقت گزاری پر مبنی سرگرمی سمجھ لیا گیا ہے ۔انتہائی بھگدڑ میں کوئی بھی شاعر اپنا کلام سنا کر چلا جاتا ہے جس میں نہ تو شاعری سننے کا لطف آتا ہے نہ ہی کسی شاعر کو سکون سے سننے کو موقع ملتا ہے ۔اس شعری نشست میں منتخب شاعر کو مکمل اور تسلی سے سننے کا موقع ملے گا اور سامعین کی بھی خالصتا شاعری سننے کی تربیت ہوگی ۔شعرا کے انتخاب میں صرف مختلف ادوار کو ذہن میں رکھا گیا ہے تاکہ ہر نسل کی آواز اور لہجہ سامعین تک پہنچے ۔اس طرز کے اگلے سلسلے میں مزید پانچ شاعروں کا انتخاب کیا جائے گا یوں بلوچستان کے ہر شاعر سے شناسائی کا یہ عمل جاری رہے گا ۔امید ہے آپ سب اس نئی طرز کی کاوش کو پسند کریں گے۔چوتھا سیشن ہم سب کے لیے انتہائی خوشی اور شاد کامی کا مظہر ہے۔ گوھر گھر ایک نئی سنگ بنیاد رکھنے کی سعی کر رہا ہے جو کسی نجی ،خود اپنے ذاتی وسائل پر مبنی ،خود کار و خود مختار ادبی تنظیم کے لیے کسی بڑے معرکے سے کم نہیں ہے ۔یہ سعید گوہر ادبی ایوارڈ کا قیام و اجراہے جو ہماری کم فہمی کے مطابق بلوچستان میں کسی نجی ادارے کی پہلی کاوش ہے اس ایوارڈ کی ابتدا آج اس کانفرنس سے کی جا رہی ہے جو انتہائی خوش آئند ہے ۔ ہماری خواہش ہے کہ یہ ایورڈ بلوچستان کے ہر اس ادب دوست تک پہنچے جس نے اپنی زندگی ادب کی بے لوث خدمت میں گزاری ہو ۔ امید ہے آپ اس نئی طرز کا خیر مقدم کریں گے ۔گوھر گھر فورم اپنے ابتدا سے اب تک ادب کی خدمت میں خاموشی سے مشغول رہا ہے لیکن کووڈ کے ما بعد سے کسی ادبی تقریب کا انعقاد عمل میں نہیں لا سکا جس کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے وہ رویے سر فہرست ہیں جو ادب کی بے لوث خدمت گاروں کی ہمت شکنی کرتے ہیں ہم نے ایک بار پھر اپنی ادبی محبت سے یہ نئی بنیاد رکھنے کی کوشش کی ہے اگر اسے پذیرائی اور محبت ملی تو یہ سلسلہ بلوچستان کے ادب کے حوالے سے کئی نمایاں کام سر انجام دینے اور اس مردہ فضا میں ایک نئی روح پھونکنے میں اہم کردار ادا کرے گا ۔
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: