Madine Ka Ye Zarra | Khursheed Ahmed |
Автор: Farough-e-ilm
Загружено: 2026-02-01
Просмотров: 16
Описание:
مدینہ منورہ… وہ بابرکت سرزمین جہاں قدم قدم پر نور بکھرا ہوا ہے، جہاں کی فضا میں سکون، محبت اور ایمان کی خوشبو رچی بسی ہے۔ یہ وہ مقدس شہر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ہجرت، قیام اور آرام گاہ کے لیے منتخب فرمایا۔ “مدینہ کا یہ ذرّہ” اسی عظمت، اسی محبت اور اسی نسبت کا اظہار ہے، جو ایک عاشقِ رسول ﷺ کے دل کی گہرائیوں سے پھوٹتی ہے۔
یہ نعت محض چند اشعار کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک عاشقانہ فریاد ہے، ایک عاجزانہ اعتراف ہے کہ مدینہ منورہ کی خاک کا ہر ذرّہ بے حد قیمتی، بے مثال اور بے مثال نہیں بلکہ دنیا و آخرت کی سب سے بڑی دولت ہے۔ اس نعت میں مدینہ کی محبت کو صرف الفاظ میں نہیں باندھا گیا بلکہ دل کی دھڑکن، آنکھوں کے آنسو اور روح کی تڑپ کو نغمگی کے قالب میں ڈھالا گیا ہے۔
مدینہ کا ہر ذرّہ گواہ ہے اُس ذاتِ اقدس ﷺ کی، جن کے اخلاق نے انسانیت کو جینے کا سلیقہ سکھایا، جن کی رحمت نے گناہگاروں کو بھی امید کی کرن دی، اور جن کی سنت نے تاریک دلوں کو نور سے بھر دیا۔ اسی لیے ایک مومن کا دل بے اختیار کہتا ہے کہ اگر دنیا کی ساری دولت ایک طرف ہو اور مدینہ کی مٹی کا ایک ذرّہ دوسری طرف، تو عاشقِ رسول ﷺ کے لیے مدینہ کا ذرّہ ہی سب کچھ ہے۔
یہ نعت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مدینہ کوئی عام شہر نہیں، بلکہ وہ مقام ہے جہاں ایمان کو پناہ ملتی ہے، جہاں دلوں کو قرار نصیب ہوتا ہے، اور جہاں کی یاد بھی عبادت بن جاتی ہے۔ مدینہ کی گلیاں، اس کے در و دیوار، اس کی ہوائیں، اس کی راتیں اور اس کی صبحیں—سب کچھ نورانی ہے کیونکہ یہ سب حضور اکرم ﷺ کے قدموں سے منور ہوا۔
“مدینہ کا یہ ذرّہ” میں یہ پیغام بھی پوشیدہ ہے کہ اصل دولت مال و زر نہیں بلکہ نسبتِ رسول ﷺ ہے۔ جو شخص مدینہ سے جُڑ گیا، وہ کبھی تنہا نہیں رہتا۔ اس کے دکھ بھی عبادت بن جاتے ہیں اور اس کی آزمائشیں بھی قربِ الٰہی کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔
یہ نعت سامع کے دل میں یہ خواہش پیدا کرتی ہے کہ کاش ایک بار مدینہ منورہ کی زیارت نصیب ہو، کاش آنکھیں سبز گنبد کو دیکھ سکیں، کاش سلام عرض کرنے کا موقع ملے، اور کاش زندگی کا ایک لمحہ بھی روضۂ رسول ﷺ کے سائے میں گزر جائے۔ یہی تڑپ، یہی چاہت، اور یہی امید اس نعت کی جان ہے۔
مدینہ کا ذرّہ اس لیے بھی عظیم ہے کہ یہ شہر ہجرت کا گواہ ہے، صبر و استقامت کی علامت ہے، اور قربانی کی عملی تصویر ہے۔ یہاں انصار کی وہ محبت ہے جنہوں نے اپنے گھروں، مالوں اور دلوں کے دروازے رسول اللہ ﷺ کے لیے کھول دیے۔ یہ نعت اس تاریخ کو بھی سلام پیش کرتی ہے اور اُس ایمان کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔
بنیاد ہے۔ جس دل میں مدینہ کی محبت بس جائے، وہاں نفرت، حسد اور تکبر کے لیے جگہ باقی نہیں رہتی۔
“مدینہ کا یہ ذرّہ” پڑھتے یا سنتے ہوئے دل نرم ہو جاتا ہے، آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، اور روح ایک عجیب سی کیفیت میں ڈوب جاتی ہے۔ یہ کیفیت وہی ہے جو سچے عاشقوں کو نصیب ہوتی ہے—جب نامِ مدینہ زبان پر آئے اور دل بے اختیار دھڑکنے لگے۔
یہ نعت ہر اس شخص کے لیے ہے جو مدینہ کو اپنی روح کا مرکز سمجھتا ہے، جو درود و سلام کو اپنی زندگی کا حصہ بناتا ہے، اور جو یہ یقین رکھتا ہے کہ مدینہ کی محبت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔
آخر میں یہ نعت ایک دعا بن جاتی ہے:
یا اللہ! ہمیں مدینہ کی حاضری نصیب فرما، ہمیں مدینہ کی خاک سے محبت عطا فرما، اور ہمیں حضور اکرم ﷺ کے قدموں میں جگہ نصیب فرما۔ آمین۔
نبی کریم ﷺ نے قدم مبارک رکھے، جہاں آپ ﷺ نے قیام فرمایا، جہاں دینِ اسلام کو استحکام ملا، اور جہاں سے ہدایت کی روشنی پوری دنیا میں پھیلی۔ اس نعت میں مدینہ کی عظمت کو صرف الفاظ میں بیان نہیں کیا گیا بلکہ ایک مومن کے دل کی گہرائیوں میں چھپی ہوئی محبت اور تڑپ کو آواز دی گئی ہے۔
“مدینہ کا یہ ذرّہ” دراصل ایک عاشقانہ اعلان ہے کہ دنیا کی کوئی دولت، کوئی مقام اور کوئی عزت مدینہ کی خاک کے ایک ذرّے کے برابر نہیں ہو سکتی۔ عاشقِ رسول ﷺ کے نزدیک مدینہ کی مٹی سونے سے زیادہ قیمتی ہے، کیونکہ یہ مٹی نسبتِ رسول ﷺ سے شرف یافتہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نعت میں عاجزی، انکساری اور بے پناہ محبت کا رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔
مدینہ منورہ وہ شہر ہے جہاں ایمان کو جِلا ملتی ہے، جہاں دلوں کو سکون نصیب ہوتا ہے، اور جہاں کی یاد بھی عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔ اس نعت میں مدینہ کی فضا کا ذکر ہے، وہاں کی ہواؤں کا تذکرہ ہے، اور اس نورانی ماحول کی جھلک ہے جو ہر زائر کے دل کو مسحور کر دیتی ہے۔ مدینہ کی گلیاں، اس کے در و دیوار، اس کے مناظر—سب کچھ ایک مومن کے لیے باعثِ سعادت ہیں۔
جائے تو انسان کے خیالات، اعمال اور زندگی کا رخ بدل دیتی ہے۔ مدینہ کی محبت انسان کو گناہوں سے دور کرتی ہے اور نیکیوں کی طرف مائل کرتی ہے، کیونکہ یہ محبت دراصل رسول اللہ ﷺ کی محبت کا مظہر ہے۔
“مدینہ کا یہ ذرّہ” میں حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس سے والہانہ وابستگی جھلکتی ہے۔ روضۂ رسول ﷺ کا تصور دل کو نرم کر دیتا ہے، آنکھوں کو نم کر دیتا ہے، اور روح کو ایک عجیب سی طمانیت عطا کرتا ہے۔ یہ نعت سننے والا خود کو مدینہ کی فضا میں محسوس کرنے لگتا ہے، جیسے وہ سبز گنبد کے سامنے کھڑا ہو کر سلام عرض کر رہا ہو۔
مدینہ کی عظمت اس لیے بھی ہے کہ یہ شہر ہجرت کا گواہ ہے۔ یہاں نبی کریم ﷺ نے صبر، حکمت اور محبت کے ذریعے ایک ایسی اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی جو عدل، مساوات اور رحم دلی کی مثال بن گئی۔ اس نعت میں اس تاریخی پہلو کی جھلک بھی ملتی ہے، جو مدینہ کو دیگر تمام شہروں سے ممتاز بناتا ہے۔
یہ نعت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ مدینہ سے محبت رکھنا ایمان کا حصہ ہے۔ جس دل میں مدینہ کی محبت ہو، وہ دل نفرت، حسد اور غرور سے پاک ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ “مدینہ کا یہ ذرّہ” سننے والا اپنے دل میں ایک تبدیلی محسوس کرتا ہے—ایک مثبت تبدیلی، جو اسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے قریب لے جاتی ہے۔
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: