Gul Plaza situation on the fifth day || Tear-jerking scenes 😭 || Who is responsible?
Автор: Abidi Media
Загружено: 2026-01-22
Просмотров: 65
Описание:
#gulplaza
#gulplazakarachi
#gulplazafire
#gulplazatragedy
#gulplazanewsupdate
#abidimedia
#newupdate
#karachiincident
#justiceforvictims
#whoisresponsible
#pakistannews
#breakingnews
#Accountability
#گل_پلازہ
#کراچی_حادثہ
#رلا_دینے_والے_مناظر
#انصاف_کہاں_ہے
#ذمہ_دار_کون
Gul Plaza 5th day Ki Sorathal || Tear-jerking scenes 😭 || Who is responsible?
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے شاپنگ سینٹر گُل پلازہ میں آتشزدگی کے چار دن بعد ملبہ ہٹانے کا عمل جاری ہے اور بدھ کی شام تک ملبے سے مزید انسانی اعضا برآمد کیے گئے ہیں جنھیں شناخت کے لیے ہسپتال لے جایا گیا ہے۔
ضلع جنوبی کے ڈپٹی کمشنر جاوید نبی کھوسو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گل پلازہ کی ایک دکان سے مزید 25 افراد کی لاشیں ملی ہیں، جبکہ اس سے قبل ڈی آئی جی جنوبی اسد رضا نے کہا تھا کہ بدھ کو ملبہ ہٹانے کے عمل کے دوران میزنائن فلور پر واقع ایک ہی دکان سے 30 افراد کی لاشیں ملی ہیں۔
ان کے مطابق ان لاشوں کی نشاندہی کے بعد ملبہ ہٹانے کا عمل وقتی طور پر روک کر لاشیں نکال کر انھیں ہسپتال منتقل کیا جائے گا۔
تاہم ریسکیو 1122 کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس دکان سے مکمل لاشیں نہیں بلکہ انسانی اعضا اور ہڈیاں ملی ہیں اور ابھی حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کتنے افراد کی باقیات ہیں۔‘
اہلکار کے مطابق پولیس سرجن ان باقیات اور ہڈیوں کے فورینزک معائنے کے بعد ہی بتا سکتے ہیں کہ یہ باقیات کتنے افراد کی ہیں۔
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے شاپنگ سینٹر گُل پلازہ میں آتشزدگی کے چار دن بعد ملبہ ہٹانے کا عمل جاری ہے اور بدھ کی شام تک ملبے سے مزید انسانی اعضا برآمد کیے گئے ہیں جنھیں شناخت کے لیے ہسپتال لے جایا گیا ہے۔
ضلع جنوبی کے ڈپٹی کمشنر جاوید نبی کھوسو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گل پلازہ کی ایک دکان سے مزید 25 افراد کی لاشیں ملی ہیں، جبکہ اس سے قبل ڈی آئی جی جنوبی اسد رضا نے کہا تھا کہ بدھ کو ملبہ ہٹانے کے عمل کے دوران میزنائن فلور پر واقع ایک ہی دکان سے 30 افراد کی لاشیں ملی ہیں۔
ان کے مطابق ان لاشوں کی نشاندہی کے بعد ملبہ ہٹانے کا عمل وقتی طور پر روک کر لاشیں نکال کر انھیں ہسپتال منتقل کیا جائے گا۔
تاہم ریسکیو 1122 کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس دکان سے مکمل لاشیں نہیں بلکہ انسانی اعضا اور ہڈیاں ملی ہیں اور ابھی حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کتنے افراد کی باقیات ہیں۔‘
اہلکار کے مطابق پولیس سرجن ان باقیات اور ہڈیوں کے فورینزک معائنے کے بعد ہی بتا سکتے ہیں کہ یہ باقیات کتنے افراد کی ہیں۔
زمہ دار کون؟
عابدی میڈیا کے ویلاگ میں جانیے
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: