تنقیدی نشست 10 جنوری 2026
Автор: ChirageHamesh
Загружено: 2026-01-12
Просмотров: 64
Описание:
نظم :: واجد خلیل
افسانہ :: طاہر علی
صدارت :: سرمد سروش
کاروائی رپورٹ
چراغ ہمیش تخلیقی و تفہیمی فورم۔
تنقیدی نشست 10 جنوری2026
سال نو کا پہلا تنقیدی اجلاس معمول کے مطابق ہفتہ شب 9 بجے آغاز ہوا۔ اس اجلاس میں نوجوان شاعر واجد خلیل نے نظم " کہانی" اور طاہر علی نے افسانہ، "مناسب دام " پیش کیا۔ اس نشست کی صدارت معروف نظم نگار جناب سرمد سروش نے کی۔ دونوں تخلیقات پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔سب سے پہلے واجد خلیل نے نظم پیش کی۔ نظم پر گفتگو کا آغاز کرتے ہوے راشد جاوید احمد نے کہا کہ یہ نظم ایک آزاد طرز اور علامتی بیانیہ رکھتی ہے تاہم اس کی تجریدیت قاری کے فہم کے لیے رکاوٹ بن سکتی ہے۔ معروف نظم نگار نجمہ منصورنے اس نظم کی فضا کو جدید حساسیت کا نمایندہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مکالمے کا چیخوں میں بدل جانا اس بات کی علامت ہے کہ زبان اپنی اخلاقی ذمہ داری کھو چکی ہے۔ثمین بلوچ ناساز طبیعت کی بنا پر گفتگو سے قاصر رہیں لیکن انہوں نے چیٹ پر اپنی راے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ مکالمے کا چیخوں میں بدل جانا ابلاغ کی ناکامی کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تماشایوں کا تماشا بن جانا سماجیوں رویوں پر گہرا طنز ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ نثری نظم کسی پنچ لائن کے بغیر کمزور ڈھانچے پر کھڑی ہے۔ طاہر علی نے کہا کہ نظم بتاتی ہے کہ معنی التوا کا شکار ہو چکے ہیں اور کہانی کار کہیں دور چلا گیا ہے۔ ممتاز حسین نے اس نظم کو افسانہ قرار دیتے ہوے اسکے اندر کی کہانی کو کھوج نکالا اور نظم نگار کو داد دیتے ہوے نظم کو ایک خوبصورت دوشیزہ سے تعبیر کیا۔ اس دوران ڈاکٹر مریم عرفان بھی نشست میں شریک ہوئیں اور نظم پر اظہار خیال کرتے ہوے گویا ہویئں کہ اس نظم میں نون میم راشد کاسا اسلوب نظر آتا ہے۔ انداز بیان تھوڑرا علامتی ہے اور بات واقعاتی تاریخیت کی طرف چلی جاتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ پیچیدہ کہانی کس کی ہے۔ نظم بتاتی ہے کہ انسان صر ف جسمانی تھکاوٹ کا شکار نہیں ہوتا بلکہ ذہنی تھکاوٹ اسے موت کے قریب لے جاتی ہے۔ انہوں نے نظم کے ابہام کی تعریف کرتے ہوے کہا کہ افسانوں میں ابہام تو ہوتا ہی ہے لیکن اس نظم کے ابہام نے اسے ایک عمدہ نظم بنا دیا ہے۔ جناب صدر سرمد سروش نے نظم کو سراہتے ہوئے اس بات کا اظہار کیا کہ زندگی میں کئی موڑ ایسے آتے ہیں جہاں کہانی پیچیدہ ہو جاتی ہے اور تماشائی تماشا بن جاتے ہیں اور مکالمے چیخوں میں بدل جاتے ہیں اور ایسا زمانہ قدیم سے ہوتا چلا آیا ہے۔ انہوں نے اسے ایک اچھی نظم قرار دیا۔اس کے بعد طاہر علی نے افسانہ " مناسب دام " پیش کیا۔ ڈاکٹر مہر زیدی نے اسے سادہ الفاظ میں افسانوی لوازمات سے بھرپور افسانہ قرار دیا۔ ثمین بلوچ نے چیٹ پر لکھا کہ افسانہ سادہ بیانیے میں لپٹا ہوا ایک ایسا سماجی سبق ہے جو بتاتا ہے کہ زندگی کی پیچیدہ کہانی میں اصل مناسب دام وہی ہیں جو انسانیت کے پلے سے ادا کیے جائیں ۔ راشد جاوید احمد نے افسانے پر تنقید کرتے ہوے اسے سو برس پہلے کا لکھا افسانہ قرار دیا اور افسانے میں سوموار، اوباش لڑکے اور حوالدار جیسے کرداروں کو افسانہ نگار کی شعوری ساختیاتی تشکیل سے تعبیر کیا۔۔ ڈاکٹر مریم عرفان نے اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ واقعی یہ کسی طور سے آج کے دور کا افسانہ نہیں لگتا مزید یہ کہ افسانہ نگار کوعلم ہونا چاہیے کہ کہانی کیا ہے اور افسانہ کیا ہےانکی راے میں یہ بھی واضح نہیں کہ یہ مناسب دام کس چیز کے دام ہیں۔ انہوں نے پریم چند کے لکھے کچھ افسانوں کا حوالہ بھی دیا۔ واجد خلیل نے افسانے کی کہانی کو کمزور قرار دیا اور اس میں جھول بھی محسوس کیا۔ نجمہ منصور نے گفتگو کرتے ہوے کہا کہ بظاہر یہ ایک سادہ سے واقعے کا بیان ہے۔ انسانی شعور، خوف اور اقتدار کی تہوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگرچہ علامتی بیانیے کے ذریعے کہانی کو آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی ہے تاہم کہانی پن کی کمی محسوس ہوئی ہے۔ ممتاز حسین نے بھی اسے عام روایتی افسانہ قرار دیا اور کہا کہ افسانہ نگار ولن اور ہیرو کا فرق واضح نہیں کر سکا۔ آیا دینو موچی ہیرو ہے یا درپردہ ایک ولن۔ انہوں نے کہا کہ مکالمے اگرچہ دلچسپ ہیں لیکن افسانہ بیساکھیوں پر کھڑا نظر آتا ہے۔ صدر نشست جناب سرمد سروش نے تمام آراء کو سمیٹتے ہوے کہا کہ افسانے کے لوازمات پورے نہیں ، یہ ایک واقعہ کی روداد ہے اور واقعہ ہی رہی۔ ان کے خیال میں افسانہ نگار میں لکھنے کی صلاحیت تو موجود ہے لیکن افسانے میں جو ایک خاص ٹوسٹ اور قضیہ ہوتا ہے ، افسانہ اس سے محروم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جزیات نگاری اچھی تو ہے لیکن یہ تفصیل اصل تصویر نہیں بناتی بلکہ الٹا گمراہ کرتی ہے۔ صاحب صدر نے اس نشست کو اور اس میں ہونے والی گفتگو کو بہت سراہا۔
آخر میں راشد جاوید احمد نے تخلیق کاروں، حاضرین اور جناب صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے نشست کے اختتام کا اعلان کیا۔ فورم کی روح رواں اور نظامت کار انجلا ہمیش نجی مصروفیت کی بنا پر تشریف نہ لا سکیں۔ ناجیہ احمد کا تکنیکی تعاون حسب معمول جاری رہا۔
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: