Poshto bayan / Molana Idrees Sab /Islamic videos / Islamic stories/حضرت سلیمان علیہ السلام اود پیری
Автор: Light of Iman 1M
Загружено: 2026-02-27
Просмотров: 110
Описание:
🌿 حضرت سلیمان علیہ السلام اور جنّی (پیری) کا ایمان افروز واقعہ
حضرت سلیمان علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے وہ جلیل القدر نبی اور بادشاہ تھے جنہیں ایسی بے مثال سلطنت عطا کی گئی جو تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔ آپؑ حضرت داؤد علیہ السلام کے بیٹے تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو حکمت، عدل اور بے شمار معجزات سے نوازا۔ ہوا آپؑ کے حکم سے چلتی تھی، پرندے آپؑ کی بات سمجھتے تھے اور جنّات آپؑ کے تابع ہو کر کام کرتے تھے۔
عام زبان میں بعض لوگ جنّات کو “پری” یا “پیری” کہہ دیتے ہیں، مگر اسلامی تعلیمات کے مطابق یہ مخلوق جنّات ہے، جو آگ سے پیدا کی گئی اور انسانوں کی طرح عقل اور اختیار رکھتی ہے۔ حضرت سلیمانؑ کے زمانے میں یہ جنّات آپؑ کی اطاعت کرتے اور مختلف کام سرانجام دیتے تھے۔
یہ واقعہ قرآنِ مجید کی سورۂ نمل میں بیان ہوا ہے۔ جب حضرت سلیمانؑ کو معلوم ہوا کہ سبا کی ملکہ (بلقیس) اپنے درباریوں کے ساتھ آپؑ کے پاس آنے والی ہیں، تو آپؑ نے اپنے دربار میں موجود لوگوں سے فرمایا:
“تم میں سے کون ہے جو ان کے آنے سے پہلے ان کا تخت میرے پاس لے آئے؟”
یہ تخت بہت قیمتی اور مضبوط تھا اور دور دراز ملک میں موجود تھا۔ یہ ایک ایسا کام تھا جو عام انسان کے بس سے باہر تھا۔ اس موقع پر ایک طاقتور جنّی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا:
“میں اسے آپ کے پاس لے آؤں گا اس سے پہلے کہ آپ اپنی مجلس سے اٹھیں، اور میں اس کام پر قادر اور امانت دار ہوں۔”
یہ جنّی غیر معمولی قوت رکھتا تھا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ وہ مختصر وقت میں تخت حاضر کر سکتا ہے۔ لیکن اسی مجلس میں ایک اور شخص بھی موجود تھا جسے اللہ تعالیٰ نے خاص علم عطا کیا تھا۔ اس نے عرض کیا کہ وہ تخت پلک جھپکنے سے پہلے حاضر کر دے گا۔ چنانچہ اللہ کے حکم سے وہ تخت لمحوں میں حضرت سلیمانؑ کے سامنے موجود تھا۔
یہ منظر حیرت انگیز تھا۔ اتنی دوری سے اتنا عظیم تخت چند لمحوں میں حاضر ہو جانا اللہ کی قدرت کی واضح نشانی تھی۔ لیکن یہاں حضرت سلیمانؑ کی عظمت اور عاجزی نمایاں ہوتی ہے۔ آپؑ نے فخر یا غرور نہیں کیا بلکہ فوراً فرمایا:
“یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری۔”
یہ الفاظ اس بات کی دلیل ہیں کہ حقیقی نبی اور سچا رہنما کبھی اپنی طاقت پر غرور نہیں کرتا۔ وہ ہر کامیابی کو اللہ کی عطا سمجھتا ہے۔ حضرت سلیمانؑ جانتے تھے کہ جنّات کی طاقت بھی اللہ کے حکم سے ہے اور خاص علم بھی اللہ ہی کی دین ہے۔
اس واقعے میں کئی اہم اسباق پوشیدہ ہیں۔
سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ اصل طاقت اور اختیار صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ چاہے انسان ہو یا جنّ، سب اللہ کے محتاج ہیں۔
دوسرا سبق عاجزی کا ہے۔ حضرت سلیمانؑ کے پاس بے مثال سلطنت تھی، مگر ان کے دل میں تکبر نہ تھا۔ انہوں نے ہر نعمت پر شکر ادا کیا۔
تیسرا سبق یہ ہے کہ علم کی طاقت جسمانی طاقت سے بڑھ کر ہوتی ہے۔ طاقتور جنّی نے وقت کا اندازہ دیا، مگر اللہ کے عطا کردہ علم نے کام کو اس سے بھی تیز کر دیا۔
چوتھا سبق قیادت کا ہے۔ ایک سچا حکمران وہ ہوتا ہے جو اپنی قوت کو اللہ کی امانت سمجھے اور اسے عدل و انصاف کے لیے استعمال کرے۔
یہ واقعہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ اسلام میں جنّات کا وجود حقیقت ہے، مگر وہ بھی اللہ کے حکم کے پابند ہیں۔ عوامی کہانیوں میں جو “پریوں” کا تصور پایا جاتا ہے وہ اصل اسلامی تعلیمات سے مختلف ہو سکتا ہے۔ قرآن ہمیں حقیقت بتاتا ہے کہ حضرت سلیمانؑ کے تابع جنّات تھے، اور وہ سب اللہ کی قدرت کے ماتحت تھے۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کا یہ واقعہ صرف ایک تاریخی قصہ نہیں بلکہ ایمان کو تازہ کرنے والا سبق ہے۔ اگر انسان کو طاقت، دولت یا علم ملے تو اسے غرور کے بجائے شکر اور عاجزی اختیار کرنی چاہیے۔ یہی انبیاء کا طریقہ ہے اور یہی کامیابی کا راستہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے اور عاجزی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
#حضرت_سلیمان
#حضرت_سلیمان_علیہ_السلام
#جنات
#پیری
#قرآنی_واقعہ
#سورہ_نمل
Facebook channel Link
https://sub4unlock.com/SL/1960047
Prophet Solomon (peace be upon him) was one of the most noble Prophets and kings chosen by Allah. He was granted a unique and unmatched kingdom, the like of which had never been seen before in history. He was the son of Prophet David (peace be upon him), and Allah blessed him with wisdom, justice, and many miracles. The wind moved by his command, birds understood his speech, and the jinn worked under his authority.
In common language, some people refer to jinn as “fairies,” but according to Islamic teachings, they are jinn — a creation made from smokeless fire. Like humans, they possess intellect and free will. During the time of Prophet Solomon (peace be upon him), the jinn obeyed him and carried out various tasks such as building structures, diving into the seas, and performing difficult duties.
This event is mentioned in the Qur’an in Surah An-Naml. When Prophet Solomon (peace be upon him) learned that the Queen of Sheba (Bilqis) was coming to visit him with her court, he addressed his assembly and said:
“Which of you will bring me her throne before they come to me in submission?”
The throne was extremely valuable and magnificent, located in a distant land. It was a task beyond the ability of ordinary humans. At that moment, a powerful jinn stood up and said:
“I will bring it to you before you rise from your place, and indeed, I am strong and trustworthy for this task.”
This jinn possessed extraordinary strength and
#ProphetSolomon
#ProphetSulaiman
#Jinn
#QuranicStory
#SurahAnNaml
#IslamicHistory
#FaithInspiration
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: