دارالعلوم دیوبند کا قیام | 31 مئی یومِ تاسیس دارالعلوم دیوبند | darul uloom deoband ki bunyad
Автор: Al Zujajah Tv Official
Загружено: 2025-05-30
Просмотров: 556
Описание:
دیوبند کی ایک چھوٹی سی مسجد میں جسے چھتہ کی مسجد کہتے ہیں۔ ایک انار کا درخت ہے اسی درخت کے نیچے سے آبِ حیات کا یہ چشمہ پھوٹا اور اسی چشمہ نے ایک طرف تو دین کے چمن کی آبیاری شروع کر دی اور دوسری طرف اس کی تیز و تند رَو نے شرک، بدعت، فطرت پرستی، الحاد و دہریت اور آزادئ فکر کے ان خس و خاشاک کو بھی بہانا اور راستہ سے ہٹانا شروع کر دیا جنہوں نے مسلمانوں کے قلوب میں جڑ پکڑ کر انہیں یہ روزِ بد دکھایا تھا۔ بانئ دارالعلوم کا یہ خواب کہ ”میں خانہ کعبہ کی چھت پر کھڑا ہوں اور میرے ہاتھوں اور پیروں کی دسوں انگلیوں سے نہریں جاری ہیں اور اطرافِ عالم میں پھیل رہی ہیں“ پورا ہوا اور مشرق و مغرب میں علومِ نبوت کے چشمے جاری ہونے کی راہ ہموار ہو گئی۔ دارالعلوم کے مہتمم ثانی حضرت مولانا شاہ رفیع الدین صاحب مہاجر مدنی قدس سرہ کا یہ خواب کہ ”علومِ دینیہ کی چابیاں میرے ہاتھ میں دے دی گئی ہیں“ خواب ہی نہ رہا بلکہ حقیقت کے لباس میں جلوہ گر ہو گیا۔ اور اس مدرسہ کے ذریعے ان چابیوں نے اُن قلوب کے تالے کھول دیے جو علم کا ظرف تھے یا ظرف بننے والے تھے جن سے علم کے سوتے ہر طرف سے پھوٹنے لگے اور چند نفوسِ قدسیہ کا علم آن کی آن میں ہزارہا علماء کا علم ہو گیا۔ حضرت سید احمد شہید رائے بریلوی رحمہ اللہ دیوبند سے گزرتے ہوئے جب اس مقام پر پہنچے تھے جہاں دارالعلوم کی عمارت کھڑی ہوئی ہے تو فرمایا تھا کہ ”مجھے اس جگہ سے علم کی بو آتی ہے“ پس وہ خوشبو جس کو سید صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی روحانی قوت شامہ نے سونگھا تھا ایک سدا بہار گلاب کے پھول بلکہ گلاب آفریں درخت کی شکل میں آ گئی جس سے ہزاروں پھول کھلے اور ہندوستان کا اجڑا ہوا چمن تختۂ گلاب بن گیا کسے معلوم تھا کہ یہ خوشبو بیج بنے گی، بیج سے کلی کھلے گی، شگفتہ کلی سے پھول بنے گی، پھول سے گلدستہ بنے گی اور اس گلدستہ کی خوشبو سے سارا عالم انسانی مہک اٹھے گا۔ اور کسے پتہ تھا کہ ایشیاء کی فضا میں مغربی استعماریت کے جو جراثیم پھیلے ہوئے ہیں وہ اس کی جراثیم کش مہک سے آپ ہی اپنی موت مرنا شروع ہو جائیں گے۔ چنانچہ اس وقت کے برطانوی ہند میں فاتح قوم (انگریز) کو فکر تھی کہ ہندوستان کے دل و دماغ کو یورپین سانچوں میں کس طرح ڈھالا جائے جس سے برطانویت اس ملک میں جڑ پکڑ سکے۔ ظاہر ہے کہ دل و دماغ کے بدل دینے کا واحد ذریعہ تعلیم ہو سکتی تھی جس نے ہمیشہ اُن سانچوں میں دلوں اور دماغوں کو ڈھالا ہے جن کو لے کر تعلیم آگے آئی ہے اس لیے لارڈ میکالے نے تعلیم کی اسکیم پیش کی اور وہ اسکولی اور کالجی تعلیم کا نقشہ لے کر یورپ سے ہندوستان پہنچا۔ اور یہ نعرہ بلند کیا کہ ”ہماری تعلیم کا مقصد ایسے نوجوان تیار کرنا ہے جو رنگ اور نسل کے لحاظ سے ہندوستانی ہوں اور دل و دماغ کے لحاظ سے انگلستانی ہوں“ یقیناً یہ آوازہ جب کہ ایک فاتح اور برسرِاقتدار قوم کی طرف سے اٹھا اور تھا بھی وہ تعلیم کا__جو بذاتِ خود ایک انقلاب آفرین حربہ ہے تو اُس نے ملک پر ذہنی انقلاب کا خاطرخواہ اثر ڈالا۔ اس تعلیم سے ایسی نسلیں ابھرنی شروع ہو گئیں جو اپنے گوشت پوست کے لحاظ سے یقیناً ہندوستانی تھیں لیکن اپنے طرزِ فکر اور سوچنے کے ڈھنگ کے اعتبار سے انگریزی جامہ میں نمایاں ہونے لگیں۔ اسی ذہنی مگر خطرناک انقلاب کو دیکھ کر بانی دار العلوم حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی قدس سرہ نے دارالعلوم قائم کر کے اپنے عمل سے یہ نعرہ بلند کیا کہ ”ہماری تعلیم کا مقصد ایسے نوجوان تیار کرنا ہے جو رنگ و نسل کے لحاظ سے ہندوستانی ہوں اور دل و دماغ کے لحاظ سے اسلامی ہوں___جن میں اسلامی تہذیب و تمدن کے جذبات بیدار ہوں اور دین و سیاست کے لحاظ سے ان میں اسلامی شعور زندہ ہو۔“ اس کا ایک ثمرہ یہ نکلا کہ مغربیت کے ہمہ گیر اثرات پر بریک لگ گیا اور بات یکطرفہ نہ رہی بلکہ ایک طرف اگر مغربیت شعار افراد نے جنم لینا شروع کر دیا تو دوسری طرف مشرقیت نواز اور اسلامیت طراز جنبہ بھی برابر کے درجہ میں سامنے آنا شروع ہو گیا جس سے یہ خطرہ باقی نہ رہا کہ مغربی سیلاب سارے خشک و تر کو بہا لے جائے گا بلکہ اگر اس کی رَو کا ریلا بہاؤ پر آئے گا تو ایسے بند بھی باندھ دیے گئے ہیں جو اسے آزادی سے آگے نہ بڑھنے دیں گے۔ بہرحال وہ ساعتِ محمود آ گئی کہ مدرسہ کا آغاز ہوا اور اس کی یہ تعمیر و دفاع کی ملی جُلی تعلیم عملاً ساحت وجود پر آ گئی۔ملا محمود دیوبندی نے (جو حضرت بانی دارالعلوم کے امر پر مدرسہ دیوبند کا یہ تعلیمی منصوبہ جاری کرنے کے لیے بحیثیت مدرس میرٹھ سے دیوبند تشریف لائے) اپنے سامنے ایک شاگرد کو (کہ ان کا نام بھی محمود ہی تھا اور آخر کار شیخ الہند مولانا محمود حسن کے لقب سے دنیا میں مشہور ہوئے) بٹھا کر کسی عمارت میں نہیں جو مدرسہ کے نام سے بنائی گئی ہو بلکہ چھتہ کی مسجد کے کھلے صحن میں ایک انار کے درخت کے سایہ میں بیٹھ کر اس مشہور عالم درسگاہ دار العلوم دیوبند کا افتتاح کر دیا نہ کوئی مظاہرہ تھا نہ شہرت پسندی کا روکار اور جذبہ نہ نام و نمود کی تڑپ تھی۔ اور نہ پوسٹر و اشتہارات کی بھرمار۔ بس ایک شاگرد اور ایک استاد، شاگرد بھی محمود اور استاد بھی محمود، دو نفر سے یہ لاکھوں کے ایمانوں کی حفاظت کی اسکیم معرض وجود میں آ گئی۔ سادگی اور ندرت ایمان کا دور دورہ شروع ہو گیا جو سنت نبوی اور اتباع سلف کی روح ہے۔ مقصد نہ ترفہ تھا نہ تنعم، نہ تعیش نہ تزین، نہ تفاخر نہ تکاثر بلکہ صرف ”ما انا علیہ واصحابی“ کا مرقع بنانا اور ”علیکم بسنتی الخ“ و ”واتبع سبیل من اناب الی“ کی سیدھی راہ کی عملی تصویر کھینچنی تھی۔ اور اس تصویر کشی میں کمال احتیاط و اعتدال بھی پیش نظر تھا کہ صراطِ مستقیم کے یہ خطوط کہیں ان 72 فرقوں کے خطوط سے نہ مل جائیں جنہیں شریعت کی اصطلاح میں سُبُلِ متفرقہ کہا گیا ہے۔ اس لیے جامعیت و اعتدال اور دین و دانش کے ملے جلے اندازوں کے ساتھ اس درسگاہ میں تعلیم و تربیت کا خطِ مستقیم کھینچا گیا۔
(تاریخ دارالعلوم دیوبند/قاری محمد طیب قاسمی نور اللہ مرقدہ)
@alzujajahtvofficial
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: