The Psychology of FOLLOWING the crowd
Автор: Sajad Ahmed-Body Language Coach
Загружено: 2026-01-12
Просмотров: 4
Описание:
اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب شروعات میں کچھ لوگ جب۔۔۔
(1) کسی شخصیت کو پسند/ناپسند
(2) کسی نعرے یا بیانیئے کو پسند/ناپسند
(3) کسی احساس کو پسند/ناپسند کرتے ہیں
تو بعد میں بُہت سارے دوسرے لوگ بھی بغیر کسی جائز منطق یا دلیل کے اُس پہلے گروہ کی پیروی آخر کیوں کرنے لگتے ہیں؟ آئیئے دیکھتے ہیں کہ نیورو سائنس، نفسیاتی و معاشرتی علوم و تحقیقات اس سلسلے میں کیا کہتے ہیں؟
اس پیٹرن کو اجتماعی پیروی، رائے کا پھیلاؤ، اور انفارمیشن کاسکیڈ کہا جاتا ہے۔
لوگ دلیل اور ثبوت کے بغیر اس لئے پیروی کرنے لگتے ہیں کیونکہ اکثر لوگوں کا ذہن اور معاشرہ چند شارٹ کٹس پر چلنے یا پیروی کرنے کا عادی ہو چکا ہوتا ہے۔
1. غیر یقینی میں انسان کا ذہن:
غیر یقینی میں انسان کا ذہن، ہجوم کی بات کو صرف اس
لیئے ”سچ“ سمجھنے لگتا ہے کیونکہ (اُن کے مطابق) جب بہت سارے لوگ وہ ہی عمل کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ جو بھی کر رہے ہیں وہ سچ ہی ہوگا اور وہ اس بات پر مزید سوچنے یا اس بات کے سچے یا جھوٹے ہونے کی کسی بھی دلیل یا ثبوت کو تلاش کرنا وقت اور توانائی کا ضیاع سمجھنے لگتے ہیں۔
جب موضوع پیچیدہ ہو، معلومات کم ہو، یا فیصلہ فوری طور پر کرنا ہو تو انسان کا ذہن دوسروں کے روئیوں کو ایک ثبوت کے طور پر دیکھتا ہے اور پھر فوری طور پر فیصلہ کر لیتا ہے کہ کیا کرنا ہے یا کیا نہی کرنا۔
اسے انفارمیشنل سوشل انفلوئنس کہا جاتا ہے۔
2. سماجی سزا سے بچنے کی ایک صورت:
اکثر لوگ دل میں اختلاف رکھتے ہیں مگر باہر سے ”ہاں“ کہتے ہیں تاکہ تنقید، تضحیک، تنہائی، یا جھگڑے سے بچا جا سکے، کنفارمیٹی کے تجربات میں یہی دکھایا گیا ہے کہ جب کوئی شخص، چیز یا بیانیئہ واضح طور پر چاہے غلط ہی کیوں نہ ہو تاہم اکثریت جب اسے اپنانے لگتی ہے تو اکثر لوگ اس ہی چیز کو اپنانے لگ جاتے ہیں۔
3. مبہم حقیقت میں گروہ خود معیار بنا لیتا ہے:
جب کسی چیز کی حقیقت واضح نہ ہو تو گروہ اپناں ایک مشترکہ اندازہ بنا لیتا ہے اور پھر اس ہی اندازے کو ایک حقیقت/سچ مان لیتے ہیں۔

4. جب شناخت والا بٹن دب جائے تو دلیل کی حیثیت ثانوی ہو جاتی ہے:
جب کوئی شخصیت، نعرہ، بیانیہ یا احساس آپ کے گروہ کی شناخت بن جائے تو پھر حمایت یا مخالفت دلیل نہیں رہتی بلکہ پھر یہ وفاداری کا روئیہ بن کر ابھرتی ہے۔
سوشل آئیڈنٹیٹی تھیوری بتاتی ہے کہ لوگ خود کو گروہ کے ذریعے سمجھتے ہیں اس لیئے پھر اپنے گروہ کے حق میں سوچتے ہیں۔ 
5. احساسات فطری طور پر تیزی سے منتقل ہوتے ہیں:
لوگ صرف رائے نہیں اپناتے وہ جذبات بھی اپناتے ہیں، بڑے پیمانے کے تجربے میں فیس بک نیوز فیڈ میں جذباتی مواد کی تبدیلی سے صارفین کے اپنے جذباتی الفاظ بدل گئے یعنی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جذبات، نیٹ ورک کی طرح پھیلتے ہیں۔ 
6. بار بار سننے سے بات سچی لگنے لگتی ہے:
کسی بھی جملے کو بار بار سننے یا کہنے سے وہ جملہ ذہن میں ایک حقیقت کی جگہ لے لیتا ہے یعنی دماغ اس آسانی کو سچائی کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔

7. اختلاف دماغ میں غلطی کے ایک اشارے جیسا لگنے لگتا ہے:
fMRI
تحقیق میں گروپ سے اختلاف پر دماغ میں ایسے سگنلز بنتے ہیں جو سیکھنے اور اندازے کی غلطی سے ملتے جلتے ہیں اور پھر اس کے نتیجے میں انسان اپنی رائے کو گروپ کے مطابق ایڈجسٹ کر لیتا ہے۔

8. شہرت، الگورتھم، اور نیٹ ورک ایفیکٹ:
شروع کے چند لوگ اگر بلند آواز ہوں اور ایک ہی بات کو بار بار دہرائیں، اور دوسروں کو کوئی شعوری یا لاشعوری اشارہ بھی دے رہے ہوں کہ یہ شخص، یہ بیانیئہ/بات یا یہ ہی احساس مقبول یا سچ ہے تو پھر باقی دوسرے لوگ بھی اسے ایک محفوظ اور پسندیدہ انتخاب سمجھنے لگ جاتے ہیں۔
اُس میں بہت سارے لوگ صرف اس لئے شامل ہو جاتے ہیں کہ اُن سے پہلے دوسرے لوگ شامل ہیں چاہے یہ غلط بھی ہو مگر یہ روئیہ پھیلتا پھر بھی ہے۔ 
آپ کے لئے عملی فلٹر، تاکہ آپ دلیل کے بغیر پیروی سے بچ سکیں:
(1) اس شخص، بیانیئے یا احساس کو پسند/ناپسند کیئے جانے کی وجہ کا ثبوت کیا ہے؟ یا یہ صرف ایک شور ہے جس کا کوئی ثبوت نہی!
(2) کیا یہ رائے میری شناخت بن چُکی ہے۔ 
(3) اگر کیا میں بلکل اکیلا ہوتا تو بھی یہی مانتا۔ 
(4) کیا میں ایک ہی بات بار بار سن کر قائل ہو رہا ہوں۔ 
(5) کیا یہ مواد میرے جذبات کو بھڑکا کر میری عقل بند کر رہا ہے۔ 
سجاد احمد جونیجو
لائف کوچ اور سند یافتہ ٹرئینر
#bodylanguage #communicationskills #conversationskills #humanbehavior #confidenceskills #darkpsychology #influenceskills #mindsetskills #interpersonalskills #leadershippresence #crowd #psychology
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: