Molna bijli ghr complete bayan !!
Автор: Daily Ahadith
Загружено: 2025-12-16
Просмотров: 4010
Описание:
ایک دوست مجھے بتا رہا تھا کہ وہ گاؤں کی ایک چھوٹی دکان پر شام کے وقت آرام سے بیٹھا ہوا تھا۔ دکان میں خاموشی تھی اور لوگ آہستہ آہستہ گزر رہے تھے۔ اچانک ہمارے محلے کے ایک گھر سے دو بچے وہاں آئے، جو بہن بھائی تھے۔ وہ دونوں بڑی بے چینی اور سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھ رہے تھے۔ میں نے مسکرا کر ان سے پوچھا، “کیا چاہتے ہو؟”
تو بچی نے شرماتے ہوئے کہا، “ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں، ہم صرف چیپس خریدنا چاہتے ہیں۔”
میں نے یہ سن کر فوراً دوکاندار سے کہا، “ان بچوں کو دو پیکٹ چیپس دے دو۔” دوکاندار نے ایک ایک پیکٹ دونوں بچوں کو دے دیا۔ بچے خوش ہو کر ہاتھ میں چیپس پکڑ کر گھر کی طرف دوڑ گئے، اور میں نے دوکاندار کو اس کے پیسے ادا کر دیے۔
یہ سب کچھ ایک عام دن کی معمولی سی بات لگ رہی تھی، لیکن اگلی شام مجھے ایک خوفناک خبر ملی۔ وہی بچے جو چیپس لے کر گئے تھے، ان میں سے ایک بچہ زہریلی چیپس کھانے کے بعد ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ دوسرا بچہ بھی وہی چیپس کھا چکا تھا، لیکن اسے کچھ نہیں ہوا۔
اس کے بعد بچے کے والدین نے میرے اور دوکاندار کے خلاف رپورٹ درج کرائی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے اس عمل کی وجہ سے ان کا اکلوتا بیٹا فوت ہوگیا۔ میرے دوست بتا رہے تھے کہ میں نے والدین کو سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ یہ کام میں نے صرف نیک نیت سے کیا تھا، بچوں کو خوش کرنے کے لیے، لیکن وہ بالکل نہیں مان رہے تھے۔ ان کا بس ایک ہی کہنا تھا: “ایک بچہ مر گیا اور دوسرا صحیح سلامت ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ چیپس میں زہر تھا۔”
کیس عدالت میں گیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ مجھے اور دوکاندار کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ حقیقت یہ تھی کہ نہ تو دوکاندار کا کوئی قصور تھا کیونکہ وہ فیکٹری سے مال لاتا ہے یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پر چیک ان بیلنس رکھے ، اسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ مال زہریلا ہے یا محفوظ۔ اور نہ ہی میرا قصور تھا کیونکہ میں نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بچوں کے لیے یہ کام کیا تھا۔ لیکن قانون تکنیکی پہلوؤں پر چلتا ہے، قانون عام منطق پر نہیں ، اور اس نے ہمیں قصور وار ٹھہرایا۔
میرے دوست بتا رہے تھے کہ جیل جاتے وقت، جیسے ہی وہ اندر داخل ہوئے، دل میں خوف اور بےچینی نے انہیں گھیر لیا۔ ہر لمحہ ایسا لگ رہا تھا جیسے ہر دن موت کی طرح طویل اور اذیت ناک ہوگا۔ لیکن اچانک وہ جاگ گئے اور سمجھ گئے کہ یہ سب محض ایک خواب تھا۔ وہ لمحہ ان کے لیے سکون اور راحت کا باعث بنا، کیونکہ حقیقت میں جیل کی زندگی کے لیے وہ بالکل تیار نہیں تھے۔
یہ واقعہ انہیں یہ سوچنے پر مجبور کر گیا کہ دنیا بھر میں بےگناہ لوگ اکثر جیلوں میں پڑے رہتے ہیں۔ ان کا کوئی قصور نہیں ہوتا، لیکن بعض حالات اور قوانین کی تکنیکی بنیادوں کی وجہ سے وہ سزاؤں کے قیدی بن جاتے ہیں۔
مثال کے طور پر:
• جب کوئی شخص پاکستان سے باہر جاتا ہے اور لوگ اسے تحفے دیتے ہیں کہ یہ چیز ان کے رشتہ دار تک پہنچا دے، اگر وہ تحفہ ایئرپورٹ پر ممنوعہ چیز نکل جائے، تو اسے عمر قید یا سزائے موت ہو سکتی ہے۔ چاہے وہ بار بار کہے کہ یہ چیز کسی اور نے دی تھی، قانون اسے قبول نہیں کرتا۔
• اسی طرح، اگر آپ کسی گاڑی کو کسی کے نام منتقل کیے بغیر دے دیتے ہیں، اور بعد میں اس گاڑی سے کوئی واردات ہو، تو آپ کو قصوروار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیشہ احتیاط برتنی چاہیے۔ کبھی بھی اپنے اعمال کی سادگی اور نیک نیت کو قانون کی پیچیدگی کے سامنے کم مت سمجھیں۔ کل کے لیے کوئی معافی نہیں ہوگی، اور نہ ہی کوئی دوسرا آپ کے جرم کو اپنے سر لے گا کہ اصل مجرم وہ ہے ۔۔۔
#peace #foryou #ameen #unfrezzmyaccount #ghor #love #ramadan #thankyouallah #today
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: