Khutbah-e-Jumuah Il Abdul Gafoor Umri Il@jame Masjid Ahle Hadees Fathe Darwaza
Автор: Abdul Raheem Khurram Jamai
Загружено: 2026-01-30
Просмотров: 259
Описание:
Khutbah-e-Jumuah Il Abdul Gafoor Umri ll @jame Masjid Ahle Hadees Fathe Darwaza
خطبہ جمعہ حافظ عبد الغفور عمری حفظہ اللہ (استاذ جامعہ دارالسلام عمرآباد، بمقام: جامع مسجد اہل حدیث،فتح دروازہ،حیدرآباد
بہترین دعا :"اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ، وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ، وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ، وَجَمِيعِ سَخَطِكَ"الہی! میں تیری پناہ چاہتا ہوں تیری نعمت کے چھن جانے سے اور تیری عافیت کے پھر جانے سے اور تیرے ناگہانی عذاب سے اور تیرے ہر طرح کے غصے سے۔"مسلم جلد 2 صفحہ 352، ابو داود جلد 1شرحاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے چار چيزوں سے پناہ مانگی ہے :پہلی : "اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ۔" یعنی اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں تیری دینی اور دنیوی نعمت کے زائل ہونے سے۔ تجھ سے دعا ہے کہ میں اسلام پر ثابت قدم رہوں اور ایسے گناہوں میں ملوث ہونے سے دور رہوں، جو نعمتوں کو زائل کر دیتے ہيں۔دوسری : "وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ"۔ اور اس بات سے کہ تیری جانب سے ملی ہوئی عافیت ابتلا و آزمائش میں بدل جائے۔ دعا ہے کہ مجھے دائمی عافیت اور دکھوں اور بیماریوں سے سلامتی عطا فرما۔تیسری : "وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ۔" اس بات سے کہ اچانک تیری بلا یا مصیبت آن پڑے۔ کیوں کہ مصیبت اور سزا جب اچانک آن پڑتی ہے، تو انسان کو توبہ اور اپنی اصلاح کا موقع نہيں مل پاتا۔ لہذا مصیبت زیادہ بڑی اور زیادہ سخت ہو جاتی ہے۔چوتھی : "وَجَمِيعِ سَخَطِكَ"۔ تیری ناراضگی کا سبب بننے والی تمام چيزوں سے۔ کیوں کہ جس سے تو ناراض ہوگیا، اس کی قسمت پھوٹ گئی۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے لفظ "جمیع" کا استعمال اس لیے کیا ہے، تاکہ اس کی ناراضگی کا سبب بننے والے تمام اقوال، اعمال اور اعتقادات شامل ہو جائيں۔ حدیث کے کچھ فوائدنبی صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے محتاج تھے۔ یہ مبارک استعاذہ، اللہ کی نعمتوں کے شکر اور گناہوں میں پڑنے سے حفاظت پر مشتمل ہے، کیوں کہ گناہوں سے نعمتیں چھن جاتی ہیں۔ اللہ کی ناراضگی کی جگہوں سے دور رہنے کا اہتمام۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اچانک مصیبت آن پڑنے سے اللہ کی پناہ مانگی ہے۔ کیوں کہ اللہ جب کسی بندے سے انتقام لینا چاہتا ہے، تو اس پر ایسی مصیبت ڈال دیتا ہے، جسے وہ اکیلے تو کجا ساری مخلوقات مل کر بھی ہٹا نہیں سکتیں۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ کی دی ہوئی عافیت کے پلٹ جانے سے اللہ کی پناہ مانگی ہے۔ کیوں کہ اللہ کی عافیت نصیب ہو جانے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے پاس دونوں جہانوں کی خیر موجود ہے اور اس کے پھر جانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے سامنے دونوں جہانوں کا شر باہیں پھیلائے کھڑا ہے۔ دراصل عافیت ہی سے دین و دنیا کی درستگی ہے۔
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: