مسجد سقیا مدینہ منورہ کی ایک تاریخی مسجد
Автор: RMH Madina Vlog
Загружено: 2025-04-04
Просмотров: 1398
Описание:
مسجد سقیا مدینہ منورہ کا ایک تاریخی مسجد ہے جس کا تعلق رسول اللہ ﷺ کے زمانے سے ہے۔ اس مسجد کی تاریخ کے چند اہم پہلو درج ذیل ہیں:
1. *تاسیس اور ابتدائی تاریخ*
مسجد سقیا کی بنیاد رسول اللہ ﷺ کے دور میں رکھی گئی، جب آپ ﷺ غزوہ بدر کے لیے روانہ ہوئے۔ اس مقام پر آپ ﷺ نے اپنے لشکر کا جائزہ لیا، نماز پڑھی، اور اہل مدینہ کے لیے برکت کی دعا فرمائی .
بعض روایات کے مطابق، یہ مسجد عمر بن عبدالعزیز کے دور میں تعمیر کی گئی، جس نے اسے رسول اللہ ﷺ کے نماز پڑھنے کی جگہ پر بنوایا .
2. *نام کی وجہ*
اس مسجد کا نام "سقیا" (پانی پلانے کی جگہ) اس لیے رکھا گیا کیونکہ یہ چاہِ سقیا کے قریب واقع ہے، جہاں سے رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا اور پانی پیا .
اسے "قبة الرئوس" (سروں کا گنبد) بھی کہا جاتا تھا، کیونکہ عثمانی دور میں یہاں مجرموں کے سروں کو رکھا جاتا تھا .
3. *تاریخی اہمیت*
یہ مسجد رسول اللہ ﷺ کی دعا کی یادگار ہے، جس میں آپ ﷺ نے اہل مدینہ کے لیے ابراہیم علیہ السلام کی طرح برکت کی دعا فرمائی .
غزوہ بدر سے پہلے، رسول اللہ ﷺ نے یہاں نوجوانوں کو واپس بھیجا اور صرف تجربہ کار مجاہدین کو ساتھ لے گئے .
4. *تعمیراتی تبدیلیاں*
مسجد کو متعدد بار مرمت اور تعمیر نو کیا گیا، جس میں عثمانی دور کی تعمیرات اور 1380-1381 ہجری شمسی (2001-2002ء) میں سعودی حکومت کی طرف سے کی گئی تازہ کاریاں شامل ہیں .
موجودہ مسجد تین گنبدوں والی ایک چھوٹی سی عمارت ہے، جس کا رقبہ تقریباً 56 مربع میٹر ہے .
5. *موجودہ مقام*
یہ مسجد مدینہ کے علاقے عنبریہ میں، ریلوے اسٹیشن کے احاطے کے جنوب مشرقی حصے میں واقع ہے .
کچھ مورخین کا خیال ہے کہ اصل مسجد تباہ ہو چکی ہے، جبکہ دوسروں کا ماننا ہے کہ موجودہ عمارت ہی تاریخی مسجد سقیا ہے .
مسجد سقیا آج بھی زائرین کے لیے ایک اہم مقام ہے، جہاں وہ رسول اللہ ﷺ کی سنتوں اور دعاؤں کو یاد کرتے ہیں۔ مزید تفصیلات کے لیے آپ مذکورہ مصادر کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: