Mujhe qaidi samajh nahi Shireen
Автор: I AM SHIA
Загружено: 2015-11-18
Просмотров: 9123
Описание:
Noha by: Syed Safdar Abbas Zaidi
Vol: 1999
مجھے قیدی سمجھ نہیں شیریں
کر غور زرا میں زینب (سلام اللہ علیہا) ہوں
تیرے شہر میں دیکھ یہ حال ہوا
نہیں سر پہ ردا میں زینب ہوں
کر یاد وصیت بھائی کی
مہمان بنیں گے ہم تیرے
پہچان مجھے اِن بالوں سے
چہرے پہ پڑے ہیں جو میرے
دل غم سے پھٹا جاتا ہے میرا
کر کوئی دوا، میں زینب ہوں
جس شہر کی میں شہزادی تھی
آئی ہوں وہاں قیدی بن کر
قرآں کی تلاوت کرتا ہے
وہ دیکھ میرے بھائی کا سر
پہچان مجھے کیا اور کہوں!
اب اسکے سوا، میں زینب ہوں
نظروں کو اُٹھا کر دیکھ زرا
نیزوں پہ شہیدوں کے سر ہیں
بیمار بھتیجا ساتھ میرے
اور اِہل حَرم بے چادر ہیں
اولادِ علیؑ ہونے کی یہاں
پائی ہے سزا، میں زینب ہوں
شیریں کیا کیا بتلاؤں تُجھے
جو ظُلم سہے ہیں راہوں میں
سنتی ہے یتیموں کے نالے
کیا کرب ہے انکی آہوں میں
سہتی ہوں جفائیں اُمت کی
بے جُرم و خطا، میں زینب ہوں
ہم آل محمد ہیں، شیریں
یہ کُنبہ کوئی اور نہیں
تو غور سے دیکھ یہ پہروں کو
پیروں سے تیرے نکلے گی زمیں
یہ ہے لیلیٰ یہ بانو ہے
یہ ہے فروا، میں زینب ہوں
شیریں مجبور ہوں میں کتنی
کس طرح میں بتلاؤں تُجھے
بالوں کو میرے چہرے سے ہٹا
ہیں ہاتھ میرے گردن سے بندھے
ماں زہرا ہے اور بابا میرا
ہے شیرخدا، میں زینب ہوں
صفدر رؤداد یہ زینب کی
سن کرشیریں بے ہوش ہوئی
کہتی تھی پیٹ کر سر اپنا
ہائے موت مجھے کیوں نا آئی
جب مجھ سے میری آقا زادی
زینب نے کہا، میں زینب ہوں
تیرے شہر میں دیکھ یہ حال ہوا
نہیں سر پہ ردا میں زینب ہوں
مجھے قیدی سمجھ نہیں شیریں
کر غور زرا میں زینب (سلام اللہ علیہا) ہوں
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: