Murder case protest Kashmiri Man Farooq Ali in
Автор: Mamoon khan official
Загружено: 2023-03-12
Просмотров: 375
Описание:
#justiceforfarooqalikhan #mamoonkhanofficial #foryou #protest in Islamabad
Urdu:
ایک سال سے فاروق علی کا خاندان پاکستانی اور برطانوی حکام سے برطانوی شہری کے قتل پہ مجرمانہ غفلت پر احتجاج کر رہی ہے۔
(اسلام آباد، 11 مارچ2023) فاروق علی کی موت کی برسی کے موقع پر، برطانوی شہری فاروق علی، جو کہ رمادا ہوٹل اسلام آباد میں مبینہ طور پہ قتل ہو گیا تھا، مرحوم کے پسماندگان نے شہباز شریف اور برطانوی ہائی کمشنر سے ملزمان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے
ڈاکٹر ریحانہ اپنے بزرگ والدین، 85 سالہ والد اور 74 سالہ والدہ کے ساتھ، رمادا ہوٹل اسلام آباد میں، مارچ 2022 سے اپنے بھائی فاروق علی کے قتل کیے جانے پہ انصاف کے لئے در بدر ٹھوکریں کھا رہے ہیں لیکن کوئی بھی ان کی شکایات پہ توجہ نہیں دے رہا۔
44 سالہ برطانوی نژاد شہری رمادہ بائی ونڈم ہوٹل جو کہ کلب روڈ اسلام آباد میں ہے، مئی 2021 سے رہ رہا تھا۔ ڈاکٹر ریحانہ نے کہا "ہمیں یقین ہے کہ اس کو 11 مارچ کی رات یا 12 مارچ کی صبح کو قتل کیا گیا"۔ جبکہ اس کی نعش 16 مارچ 2022 کو ملی۔
فاروق علی کا تعلق آذاد جموں کشمیر سے تھا۔ اس نے بائیولوجی، میتھس اور جغرافیہ میں 3 As حاصل کیے۔
اس نے ایمپیرئل کالج لندن سے بائیو کیمسٹری میں 2:1 میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی، اس نے برطانوی بائیؤ ٹیک سے ایک A+ بھی لیا اور ایمپیرئل کالج لندن سے ہی بائیو کیمسٹری میں ماسٹرز کیا۔ وہ پاکستان ٹینس فیڈریشن میں ٹینس کھیل رہا تھا۔ وہ ایک فکشن بک(افسانہ) بھی لکھ رہا تھا۔ماضی میں اس نے ایک کشمیر پر ویب سائیٹ بھی بنائی اور سیاسی موضوعات پہ بھی لکھتا رہا۔
ڈاکٹر ریحانہ مانتی ہیں کہ اس کو 11 یا 12 مارچ 2022 کے اوائل گھنٹوں میں قتل کیا گیا۔ اس کی نعش بھی 16 مارچ 2022 کو درآمد ہوئی۔
اس نے بتایا کہ ہوٹل انتظامیہ نے بہت سے جھوٹ بولے ہیں جیسا کہ انہوں نے 6 دن گزرنے کے باوجود بل لینے کے لئے فاروق کا پیچھا نہیں کیا حالانکہ فاروق ہمیشہ ہر ماہ کی 10 تاریخ کو بل ادا کر دیتا تھا، بقول ہوٹل انتظامیہ فاروق ہفتے میں صرف دو مرتبہ کھانا کھاتا تھا، کیونکہ طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس۔کو کوئی ڈسٹرب کرے، مبینہ طور پہ اس کے دروازے کا لاک پولیس کی غیر موجودگی میں توڑا گیا، وغیرہ
ڈاکٹر ریحانہ نے کہا کہ 12 مارچ کے اوائل گھنٹوں میں فاروق کے دروازے کے باہر سی سی ٹی وی کیمرہ میں مشکوک سرگرمیاں ہوئیں۔ 7، 8 اور 11 مارچ کوبھی اسی طرح کی مشکوک سرگرمیاں پائی گئیں۔
ڈاکٹر ریحانہ کا موقف تھا کہ پولیس نے پہلے دن سے ہی اس کیس کو بند کرنے کی کوشش کی تھی، اردو میں جھوٹے بیانات دئیے، نمونے لئے جانے پہ جھوٹ بولا، انگلیوں کے نشانات نہیں لیے گئے، ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیا گیا (اہلخانہ نے 11 اپریل 2022 کو ایک عدالتی حکم پہ ایف آئی آر حاصل کی)، پولیس نے قبر کشائی میں دیر کروائی اور مشکوک ملزمان سے تفتیش کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔
تمام تر جھوٹ ثابت ہونے کے باوجود 12 ماہ میں ایک بھی گرفتاری نہیں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ 09 مئی کو قبر کشائی کے بعد تیار کی جانے والی رپورٹ میں بھی موت کی وجہ یہ بتائی کہ " یہ واضح طور پہ کہا نہیں جا سکتا کہ موت قدرتی طور پہ ہوئی یا قتل کیا گیا"۔ وہ انسپکٹر جنرل آف پولیس اکبر ناصر خان کو 4 جولائی کو دوبارہ ملیں۔ اسلام آباد پولیس نے دوبارہ تفتیش کا یقین دلایا لیکن پھر انکار کر دیا۔ ڈاکٹر ریحانہ نے کہا کہ اہل خانہ نے عدالت میں کیس دائر کیا کہ پولیس کو حکم دیا جائے کہ وہ تفتیش مکمل کرے۔ ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے 20 جولائی 2022 کو پولیس کو حکم دیا کہ رپورٹ درج کریں جبکہ پولیس نے جج کے حکم کو نظر انداز کر دیا۔ اگست میں اسلام آباد پولیس نے میڈیکل بورڈ کو قبر کھودائی کی رپورٹ کو تبدیل کرنے کے لیے دبائو ڈالا۔
ڈاکٹر ریخانہ مزید کہتی ہیں کہ اکتوبر 2022 میں، اسلام آباد کے ایک اور سیشن جج طاہر سیپرہ ایک نجی شکایت کے بنیاد پہ ہمارا کیس فارغ کر دیا باوجود اس کے کہ ہمارے پاس ہوٹل اور پولیس کے خلاف بے شمار ثبوت تھے۔ سابقہ ڈی آئی جی نے کہا تھا کہ پولیس نے کیس میں گڑ بڑ پیدا کی۔ فیملی نے ٹرائیل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا جہاں مزید تاخیر ہو رہی ہے۔
اس کا دعویٰ ہے کہ اہل خانہ کو یقین ہے کہ ہوٹل انتظامیہ اور سٹاف کو فاروق کے قتل کے لئے پیسے دئیے گئے تھے۔ ان کو یقین ہے کہ جنرل مینجر افضال مرزا، چیف سیکیورٹی آفیسر خالد ظہیر، ڈیوٹی مینجر محمد ظہیر، فرنٹ ڈیسک مینجر عباس گل، عبید عباسی، نگران بہار علی، طلحہ خورشید، اور حامد نواز قتل میں ملوث ہیں۔ ان کے علاؤہ ایف ایس ایس کا سیکورٹی گارڈ جو کہ میرے بھائی کے دروازے کے باہر 12 مارچ کی صبح 04:00 بجے دیکھا گیا۔
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: