Bait e Uqba Sania Part 3, SEERAT UN NABI Course Lecture 60, Mufti Rasheed Speeches
Автор: Mufti Rasheed Speeches
Загружено: 2025-10-19
Просмотров: 2572
Описание:
Course Registration link:
https://tinyurl.com/SeeratcoursebyMuf...
کلاس کے چند اہم نکات:
1. سب سے پہلے کس نے بیعت کی؟ اس میں تین اقوال ہیں: حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ، حضرت ابوالہیثم بن التیہان رضی اللہ عنہ ، اور حضرت براء بن معروررضی اللہ عنہ ۔ ان روایات میں تطبیق یہ دی جاتی ہے کہ خزرج میں سب سے پہلے حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ اوس میں حضرت ابوالہیثم بن التیہان رضی اللہ عنہ اور پہلی ملاقات کرنے والوں میں سب سے پہلے حضرت ابوالہیثم بن التیہان رضی اللہ عنہ نے بیعت کی۔
2. بیعت مکمل ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے میں سے بارہ (12) نقیب میرے سامنے لاؤ۔یہ بارہ افراد اپنی اپنی قوم کے ذمہ دار اور نگران مقرر کیے گئے۔
3. نقباء کی ذمہ داری کے بارے میں نبی ﷺ نے فرمایا: تم اپنی قوم کے ذمہ دار ہو جیسے حضرت عیسی علیہ السلام کے حواری ان کے ذمہ دار اور ضامن تھے۔ اور میں اپنی قوم کا ذمہ دار ہوں۔ان نقباء میں نو خزرج سے اور تین اوس سے منتخب کیے گئے۔
4. خزرج کے نو نقباء:
1) حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ
2) حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ
3) حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ
4) حضرت رافع بن مالک رضی اللہ عنہ
5) حضرت براء بن معرور رضی اللہ عنہ
6) حضرت عبد اللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ
7) حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ
8) حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ
9) حضرت منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ
اوس کے تین نقباء:
10) حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ
11) حضرت سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ
12) حضرت رفاعہ بن منذر رضی اللہ عنہ
بعض حضرات نے حضرت رفاعہ رضی اللہ عنہ کی جگہ حضرت ابوالہیثم بن التیہان رضی اللہ عنہ کا نام ذکر کیا ہے۔
5. بیعت کے فوراً بعد انصار نے پیش کش کی کہ اگر اجازت دیں تو ہم ابھی منیٰ کے مشرکین پر حملہ کریں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمیں اس کا حکم نہیں دیا گیا۔
6. اس واقعے سے معلوم ہوا کہ جذبات سے زیادہ اللہ کے حکم کی پیروی اصل معیار ہے۔اس موقع پر حملہ نقصان دہ ہوتا، اس لیے نبی ﷺ نے صبر اور حکمت کو ترجیح دی۔اس واقعہ میں سبق ہے کہ جذبات سے نہیں بلکہ حکمت اور موقع محل کے لحاظ سے فیصلہ کرنا چاہیے۔
7. نقباء کے تقرر سے اوس و خزرج میں پہلی بار اتحاد اور باہمی رابطہ قائم ہوا۔
8. یہ داخلی سلامتی اور قومی وحدت کا پہلا مظہر تھا جو اسلام کی برکت سے ممکن ہوا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نقطہ نظر سے ملک کی داخلی سلامتی کتنی اہم ہے۔ قرآن کریم میں بھی اوس وخزرج کی باہم محبت کو اللہ تعالی نے اپنا عظیم احسان بتایا ہے۔
9. نقیب مقرر کرنے سے انتظامی رابطہ کاری آسان ہوگئی، پیغام رسانی منظم ہوئی۔
10. اس فیصلے سے اونرشپ کا احساس پیدا ہوا — انصار کو ذمہ داری کا شعور ملا کہ وہ دین کے اصل محافظ ہیں۔ ایک لیڈر کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے ماتحت لوگوں کو اونر شپ کا احساس دلائے تاکہ وہ دلجمعی سے کام میں حصہ لیں۔
11. نبی ﷺ نے نقیب مقرر کرنے کا اختیار انصار کو دیا، یہ شورائی نظام کی عملی مثال تھی۔ جب اس طرح آزادانہ طریقے سے انتخاب ہوتا ہے تو لوگ ایسے امیر کے ساتھ کام کرنے میں کمفرٹیبل فیل کرتے ہیں۔
12. انتخاب میں نسبتی نمائندگی (Proportional Representation) کا لحاظ رکھا گیا: خزرج کی اکثریت کے مطابق 9 نقیب اور اوس کے 3 نقیب۔
13. صبح ہوتے ہی قریش کو بیعت کی خبر ملی اور وہ انصار کے خیموں میں پہنچ گئے۔انصار کے مشرک افراد نے انکار کیا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔
14. قریش نے معاملہ واضح کرنے کے لیے عبداللہ بن اُبی بن سلول سے بھی پوچھا، اس نے بھی لاعلمی ظاہر کی اور کہا اتنا بڑا کام میری اجازت کے بغیر کیسے ہوسکتا ہے؟
15. بعد میں کنفرم ہوا تو پیچھا کرنے نکلے لیکن مدینہ کے قافلے نکل چکے تھے۔ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ان کے ہاتھ آگئے۔ ان کو گرفتار کر لیا، ان پر تشدد کیا اور گھسیٹا۔
16. حضرت سعد نے جبیر بن مطعم اور حارث بن حرب کے ساتھ پرانے تعلقات کا حوالہ دے کر رہائی حاصل کی۔
17. اس واقعے میں سیکھنے کا پہلو یہ ہے کہ کبھی غیر مسلموں کے قانون یا تعلقات کے ذریعے بھی کسی مسلمان کی مدد ممکن ہو تو وہ درست ہے۔
18. حضرت سعد پر جب تشدد ہورہا تھا تو مسلمان بیچ بچاؤ کرنے نہیں آئے۔ اگر مسلمان درمیان میں آتے تو ان کو مزید پکا یقین ہوجاتا اور آگے ہجرت مدینہ کے راستے میں بیسیوں مشکلات کھڑی ہوجاتیں۔ سنجیدہ اور قابل اعتماد قیادت کا فیصلہ وقتی جذبات سے نہیں بلکہ بڑی مصلحت کے تحت ہوتا ہے؛ نوجوانوں کو لیڈر پر اعتماد رکھنا چاہیے۔
19. بیعت عقبہ اسلامی انقلاب کا نقطۂ آغاز تھی، جس سے ریاستِ مدینہ کی بنیاد رکھی گئی۔اس بیعت کے لیے نبی ﷺ کی منصوبہ بندی کمال کی تھی — تاریخ، وقت، جگہ اور سکیورٹی سب پہلے سے طے تھی۔
20. مکہ میں صرف تین افراد کو اس ملاقات کا علم تھا: حضرت عباس، حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ ، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ
21. معلوم ہوا کہ اپنے ہر منصوبے کی تفصیلات سب کو بتانا ضروری نہیں — راز داری تنظیمی کامیابی کا اہم اصول ہے۔
22. ملاقات حج کی آخری رات کو طے کی گئی تاکہ اگلے دن قافلے روانہ ہو جائیں۔ پتا چل بھی جائے تو کسی کو پکڑ نہ سکیں۔
#seerat
#seeratunnabi
#seerat_un_nabi
#seeratinurdu
#seeraturrasool
#muftirasheedkhursheed
#muftirasheedofficial
#muftirasheedahmedkhursheed
__
Follow us on Social Media:
Instagram: https://www.instagram.com/
muftirasheedahmedofficial
Youtube: / muftirasheedofficial
Facebook Page: / muftirasheedofficial
Tiktok: / muftirasheedofficial
Whatsapp Channel Link: https://whatsapp.com/channel/0029VaCo...
Pashto Youtube Channel: / @muftirasheedpashtospeeches
Pashto Facebook Page: / muftirasheedpashtospeeches
__
For any querry:
Email: [email protected]
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: