حضرت مولانا ابراہیم صاحب دامت برکاتہ اپنی تبلیغ کی شروعات کا واقعہ 🥹🥹
Автор: M.k.studio_0
Загружено: 2026-02-28
Просмотров: 92
Описание:
تعارف..مولانا ابراھیم صاحب دیولا مد ظلہ........
حضرت مولانا ابراھیم صاحب دیولا دامت برکاتہم کا اصلی و واقعی تعارف ان کی دعوت و ارشاد، زہد و تقوی، درس و تدریس، اتباع سنت اور وعظ و نصیحت سے معمور زندگی ہے،ایک کہاوت ہے ہاتھ کنگن کو آئینہ کیسا؟ کی طرح مولانا محترم کا تعارف تحصیل حاصل بلکہ سورج کو چراغ دکھانے یا چاند پر غلاف ڈالنے کے مرادف ہے، جو ذات مرجع خلائق ہو اس کے مقبول عند اللہ ہونے میں کیا شبہ ہے؟ اور جس نے اپنی حیات مستعار کو مقصد حیات پر وقف کر دی ہو اس کی زندگی ٹھکانے لگ جانے میں کیا کلام اللہ تعالی ملت کے اس درد مند کی حفاظت فرمائے اور اسباب قبولیت میں برکتیں عطا فرما کر ان کا سایہ عاطفت ، عافیت کے ساتھ تا دیر مقدر فرمائے..آمین
ولادت،طفولیت اور ابتدائی تعلیم
آپ کی یدائش اپنے آبائی وطن دیولا، تحصیل جمبوسر، ضلع بھروچ، صوبہ گجرات، میں 20/ذی الحجہ سنہ1353 مطابق25/اپریل سن1933ء میں ہوئی، نام ابراھیم رکھا گیا، آپ نے قرآن کریم ناظرہ اور دینیات کی ابتدائی تعلیم نیز فارسی کی تعلیم اپنے وطن کی بنیادی درسگاہ، مدرسہ تعلیم الاسلام دیولا میں حاصل کی، ابتدائی تعلیم آپ نے سید احمد قادری صاحب رح، محترم جناب یعقوب خان صاحب اور حضرت مولانا ابراھیم صاحب کاوی جیسے اساتذہ کرام سے حاصل کی، پانچویں جماعت تک کی عصری تعلیم بھی پرائمری اسکول دیولا میں بزبان گجراتی حاصل کی-
درس نظامی کی تعلیم اور تکمیل
آپ کے والد صاحب نے جو نہایت اصولی اور دیندار تھے، آپ کی درس نظامی کی تعلیم کے لئے اس زمانہ گجرات کے چند گنے چنے اداروں میں سے دار العلوم اشرفیہ راندیر سورت کا انتخاب فرمایا، آپ نے انتہائی محنت اور جانفشانی کے ساتھ علم حاصل کیا، رات بارہ بجے تک پابندی کے ساتھ مطالعہ فرماتے، تکرار و مذاکرہ بھی آپ ہی کے ذمہ ہوتے، زمانہ طالب علمی ہی میں آپ نے اپنے چند ساتھیوں کو بوستاں جیسی کتاب بھی پڑھائی جن میں آپ کے ہم وطن مولانا اسمعیل صاحب اور مولانا مرغوب الحق صاحب بھی شامل ہیں، مدرسہ کی با ضابطہ تعطیلات کے علاوہ، خود بھی درس کی پابندی کے عادی ہونے کے سبب اور والد صاحب کی جانب سے عدم اجازت کے باعث گھر نہ جاتے، درسی کتابوں کے ساتھ ساتھ خارجی کتابوں کے مطالعہ کا بھی شوق رکھتے اور درسی و خارجی کتابوں کے مطالعہ کا وقت تقسیم فرماتے، آپ نے راندیر قیام میں فارسی مولانا شیر محمد خراسانی سے اور عربی علوم مولانا مفتی عبد الغنی کاوی، مولانا عبد الصمد کاچھوی، مولانا عبد الحق پیشاوری،مولانا اشرف راندیری، اور گجرات کی مایہ ناز شخصیت شیخ الحدیث مولانا محمد رضا اجمیری سے حاصل کئے، آپ کو اپنے اساتذہ سے خصوصی تعلق و محبت و عقیدت تھی اور آپ کے اساتذہ کو بھی آپ سے بے پایاں محبت و لگاو تھا، مولانا اجمیری رح بارہا آپ کا ذکر فرماتے، ملاقات کے وقت آبدیدہ ہو جاتے، قابل دید محبت و شفقت فرماتے،ڈھیروں دعایئں دیتے، اساتذہ کی ایسی شفقت و مربیوں کی نظر میں ایسا مقام،علمی دنیا کی ابلہ پائی کرنے والے جانتے ہیں کہ خدمت و عظمت معلم کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا، جس کا وافر حصہ آپ کو حاصل تھا-
ام المدارس دارالعلوم دیوبند میں...
طلب علم کا شوق اور تحقیق و تلاش کے جذبے نے آپ کو مدینت العلم دیوبند کا رخت سفر باندھنے پر مجبور کیا، دارالعلوم اشرفیہ سے دستار فضیلت و سند عالمیت حاصل کرنے کے بعد آپ نے سن1954ء میں ازھرالھند میں داخلہ لیا، آپ وہاں ماہانہ بیس روپئے بطور فیس جمع فرماتے تھے، اس چشمہ فیض میں آپ نے شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کے ساتھ ساتھ علامہ بلیاوی،مولانا اعزاز علی، مولانا ظہورالحسن، جیسے اساطین امت و مشائخ ملت سے کسب فیض فرمایا، اور دارالعلوم دیوبند کی سند فضیلت کے ساتھ ساتھ حضرت مدنی نے بھی آپ کو خصوصی سند اور تمغہ عنایت فرمایا..(ذلک فضل اللہ یوئتیہ من یشاء)-
دارالعلوم سے فراغت اور تدریسی خدمات...
دارالعلوم سے فراغت کے بعد اگر چہ قرب و جوار کے دیہاتوں سے آپ کو طلب کیا گیا مگر آپ نے اشاعت علم اور تبلیغ دین کیلئے اولا اپنے وطن ہی کا انتخاب فرمایا اور قابل تقلید محنت، بے انتہا لگن اور عجیب و غریب کڑھن کے ساتھ سن1955ءسے سن1971ءتک مدرسہ تعلیم الاسلام دیولا میں طلبہ کی علمی آبیاری فرماتے رہے،درسی خدمات کے ساتھ ساتھ تبلیغی سرگرمیاں، اصلاحی بیانات اور دیگر گوناگوں خدمات کا سلسلہ دیولا اور قرب وجوار اور دور دراز کے دیہاتوں تک جاری رہا-
شوق دعوت و تبلیغ....
مولانا کو زمانہ طالب علمی ہی سے اس کام سے والہانہ شغف تھا، راندیر کے قیام کے دوران چھٹی کے دن نیز روزانہ عصر کے بعد اساتذہ کرام کی نگرانی میں گشت فرماتے، مولانا رنگونی قاری عبدالرحمن صاحب آپ سے بیان بھی کرواتے،یہ سلسلہ زمانہ طالب علمی میں روز افزوں جاری رہا، فراغت کے بعد بمبئی کی ایک جماعت کی بات سن کر جس میں ایک نو مسلم عبدالرحمن ملنگ صاحب تھے، دل میں اس کام کا داعیہ موج زن ہوا اور باہمہ جان وتن اس کام کی طرف متوجہ ہوگئے، آپ کا پہلا چلہ 1958 میں اعظم گڑھ میں لگا، وہاں سے کلکتہ تبلیغی اجتماع میں شرکت فرمائی اور وہاں سے مرکز نظام الدین دھلی تشریف لے گئے، وہاں حضرت جی مولانا یوسف صاحب سے تفصیلی ملاقات ہوئی، اس وقت حیات الصحابہ زیر کتابت تھی، حضرت جی نے مولانا یوسف صاحب کو اس کا مسودہ بھی عنایت فرمایا، یہ چلہ باون دنوں کا ہو گیا اور اکابرین مرکز کی صحبت اور امت کے احوال اور ضرورت کو دیکھ کر تبلیغ و دعوت کا جذبہ آپ کے دل و دماغ پر چھا گیا،
اس کے فورا بعد دوسرا چلہ بھروچ اور اطراف میں لگا،چالیس دن کے اختمام پر رویدرا ضلع بھروچ میں ایک اجتماع کیا،ضلع بھروچ کے امیر حافظ محمد بخش صاحب کو مولانا کا طریقہ عمل اور حکمت و موعظت بھرا اسلوب بے حد پسند تھا،اس لئے کام کے سلسلہ میں اکثروبیشتر مولانا سے مشورہ فرماتےاور بذریعہ خط آپ کا عندیہ معلوم کرتے، یہ حضرت مولانا کی کام سے دلی لگاو کے ساتھ ساتھ ایمانی فراست کی بھی بین دلیل ہے،سن1966ءمیں آپ کے چار ماہ حیدرآباد میں لگے،
#islamicvideo #viral
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: