karbla Ke baad Kia hua tha|| karbla Ke baad ka manzar ||خطبہ بی بی زینب
Автор: Tanveer Abbas Voice
Загружено: 2022-08-15
Просмотров: 1338
Описание:
واقعہ کربلا کے بعد زینب بنت علی کا کردار بہت اہم ہے۔ واقعہ کربلا کے بعد وہ قیدی بنا کر کئی شہروں سے گزار کردمشق لے جائی گئیں۔ انہوں اس سفر اسیری میں کئی خطبے دیئے ان میں سے ایک خطبہ یزید بن معاویہ کے دربار میں دیا۔ ان کے دیگر فصاحت و بلاغت سے بھرپور خطبات کی طرح ان کا یہ خطبہ بہت مشہور ہے۔ جس نے یزید کے دربار پر لرزہ طاری کر دیا تھا۔ یزید کی محفل میں جب بی بی زینب (سلام اللہ علیہا) کی نظر اپنے بھائی کے خون آلود سر پر پڑی تو انہوں نے جو غم ناک آواز میں فریاد کی جس سے سب لوگوں کے دل دہل گئے۔ آپ نے فرمایا تھا "اے حسین اے محبوب خدا، اے مکہ و منی کے بیٹے! اے فاطمہ زہرا سید نساء العالمین کے بیٹے، اے محمد مصطفی کی بیٹی کے بیٹے!" پھر یہ معروف خطبہ دیا جس نے دشمن حسین کے مقاصد کو خاک میں ملا دیا۔راوی اس واقعہ کو نقل کرتے ہوئے کہتا ہے کہ: "خدا کی قسم! بی بی زینب کی آواز سے وہ تمام لوگ رونے لگے جو یزید کے دربار میں بیٹھے ہوئے تھے اور یزید اس طرح خاموش بیٹھا ہوا تھا جس طرح اس کو سانپ سونگھ گیا ہو۔"
یزید نے خیزران کی لکڑی لانے کا حکم دیا، پھر یزید نے اس لکڑی کو امام حسین کے لبوں اور دانتوں پر لگایا۔ ابو برزہ اسلمی (جو صحابی رسول تھے اور وہاں پر موجود تھے) نے یزید کو مخاطب کر کے کہا: "اے یزید! کیا تو اس چھڑی سے فرزند فاطمہ کے دندان مبارک پر مار رہا ہے؟ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ پیغمبر اکرم حسین اور ان کے بھائی حسن کے لبوں اور دندان مبارک کو بوسہ دیتے اور فرماتے تھے کہ تم دونوں جوانان جنت کے سردار ہو جو تمہیں قتل کرے خدا اس کو قتل کرے اور اس پر لعنت کرے اور اس کے لیے جہنم کو آمادہ کرے اور وہ بہت خراب جگہ ہے۔"
یزید غصہ میں چیخنے لگا اور حکم دیا کہ صحابی رسول کو باہر نکال دو۔
یزید نے جب امام حسین کے دندان اور ہونٹوں پر چھڑی پھیر کر بے حرمتی کی اور فخریہ اشعار پڑھے تو زینب بنت علی سے نہ رہا گیا انہوں کھڑے ہو کر وسیع خطبہ فرمایا۔ یزید کی تحقیر اور مذمت کی، اہل بیت کی شان بیان کی اور لشکر یزید کے مظالم بیان کئے۔
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: