KARACHI TO SHAH NOORANI LAHOOT LA MAKAN
Автор: BAALI MENTOR
Загружено: 2026-01-14
Просмотров: 170
Описание:
کراچی کی تیز رفتار زندگی کو پیچھے چھوڑتے ہی ہم ایک ایسے سفر پر نکل پڑتے ہیں جو صرف 106 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتا ہے، مگر اپنے اندر صدیوں کی کہانیاں سموئے ہوئے ہے۔ معزز ناظرین! آپ دیکھ رہے ہیں **Baali Mentor**، ہماری چینل کو سبسکرائب کیجیے، کیونکہ ہمارا مقصد پاکستان کا ایک نرم، پُرامن اور مثبت تشخص دنیا کے سامنے لانا ہے۔
کراچی سے روانگی کے ساتھ ہی منظرنامہ بدلنے لگتا ہے۔ بلند عمارتیں آہستہ آہستہ غائب ہوتی ہیں اور ان کی جگہ کھلے میدان، خاموش پہاڑ اور سنسان سڑکیں لے لیتی ہیں۔ یہ 106 کلومیٹر کا سفر محض ایک راستہ نہیں بلکہ ایک تدریجی تبدیلی ہے—شور سے سکون کی طرف، دنیا سے روحانیت کی طرف۔
ہماری گاڑی حب چوکی سے گزرتی ہوئی بل کھاتی سڑکوں پر آگے بڑھتی ہے۔ کہیں تیز موڑ، کہیں اچانک چڑھائیاں اور کہیں گہری ڈھلانیں—ہر لمحہ سفر کو مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔ پہاڑوں کے سینے سے لپٹی یہ سڑک ہمیں احساس دلاتی ہے کہ ہم ایک خاص مقام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
راستے میں ایک مختصر سا قیام کیا جاتا ہے۔ گرم چائے کی خوشبو، تھکن زدہ مسافروں کے چہروں پر تازگی لے آتی ہے۔ یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جو سفر کو یادگار بنا دیتے ہیں۔ کچھ دیر کے آرام کے بعد ہمارا قافلہ دوبارہ روانہ ہوتا ہے۔
جوں جوں رات کا اندھیرا گہرا ہوتا ہے، فضا میں خاموشی بڑھتی جاتی ہے۔ ستاروں بھرا آسمان اور پہاڑوں کا سیاہ عکس ایک پراسرار منظر پیش کرتا ہے۔ آخرکار ہم محبت شاہ فقیر کے مزار پر پہنچتے ہیں، جہاں شاہ نورانی کے سفر کی ابتدا روحانی حاضری سے کی جاتی ہے۔ یہاں قدم رکھتے ہی دل میں ایک عجیب سا سکون اتر آتا ہے۔
یہی سے ہم شاہ نورانی کے مقدس مقام کی طرف بڑھتے ہیں۔ ایک ندی کے کنارے آباد، سرسبز وادی میں واقع یہ گاؤں اردگرد کی بنجر زمین سے بالکل مختلف دکھائی دیتا ہے۔ یہ منظر خود اس بات کا ثبوت ہے کہ روحانیت جہاں بسیرا کر لے، وہاں ویرانی بھی سرسبز ہو جاتی ہے۔
بلوچستان کے ضلع خضدار میں واقع حضرت شاہ سید بلال شاہ نورانی رحمۃ اللہ علیہ کا مزار عقیدت مندوں کے لیے روشنی کا مینار ہے۔ ہر سال ہزاروں زائرین یہ 106 کلومیٹر کا کٹھن اور دشوار گزار سفر طے کر کے یہاں پہنچتے ہیں۔ پہلی بار آنے والوں کے لیے یہ راستہ حیرت، تجسس اور روحانی کشش سے بھرپور ہوتا ہے۔
یہ دستاویزی سفر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ پاکستان صرف شہروں اور سڑکوں کا نام نہیں، بلکہ یہ عقیدت، ثقافت اور امن کی سرزمین ہے۔ یہی ہمارا وژن ہے، یہی ہمارا پیغام—پاکستان کا خوبصورت اور مثبت چہرہ دنیا کے سامنے لانا۔شاہ نورانی کی اس قدیم وادی کے بارے میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کبھی یہاں دیو اور جنات کا بسیرا تھا۔ یہ علاقہ ایک زمانے میں خوف اور پراسرار کہانیوں کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ مگر جب سید شاہ نورانی رحمۃ اللہ علیہ یہاں تشریف لائے تو یہ تمام سائے اور منفی اثرات ختم ہو گئے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ کی آمد کے بعد وہ تمام جنات یہاں سے بھاگ گئے اور اس وادی میں بسنے والے لوگوں کو سکون اور راحت نصیب ہوئی۔ اسی دن سے لوگ شاہ نورانی کے فیض سے فیضیاب ہوتے چلے آ رہے ہیں۔
آج بھی اس علاقے میں انتظامیہ کی جانب سے جگہ جگہ ہدایتی بورڈ اور بڑے پتھروں پر سرخ رنگ سے تنبیہی تحریریں لکھی ہوئی نظر آتی ہیں، تاکہ زائرین کو کسی قسم کا نقصان نہ اٹھانا پڑے۔ ہر خطرناک موڑ پر آگے جانے سے روکا گیا ہے، کیونکہ یہ راستہ احتیاط، حوصلے اور مکمل توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔
یہاں کا ماحول دل کو بے حد مسرور کر دیتا ہے۔ پرندوں کی چہچہاہٹ، فطرت کی خوشبو اور قدرت کے دلکش مناظر ایک ایسا روحانی احساس پیدا کرتے ہیں جو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے وقت اس وادی میں آ کر ٹھہر سا گیا ہو۔
اس قدیم وادی میں سیکڑوں مریدین کی قبریں بھی موجود ہیں، جو اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ یہ مقام صدیوں سے عقیدت مندوں کا مرکز رہا ہے۔ یہاں ایک بنگالی خاتون کی قبر بھی موجود ہے۔ قبر پر لگی تختی سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ قبر نہایت قدیم ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دور دراز علاقوں سے بھی لوگ شاہ نورانی کی محبت میں یہاں حاضری دیتے رہے ہیں۔
مزار کے عقب میں ایک چھوٹا سا بازار بھی موجود ہے، جہاں سے عقیدت مند اپنی منت اور نذر کے مطابق مختلف اشیاء خریدتے ہیں۔ کوئی چادر لیتا ہے، کوئی دیا، کوئی خوشبو—یہ سب عقیدت اور امید کی علامتیں ہیں۔
شاہ نورانی سے آگے کا سفر لاہوت لا مکاں کی جانب جاتا ہے۔ لاہوت جانے کے لیے خاص کیکڑا گاڑی استعمال کی جاتی ہے، کیونکہ بلندی اور پہاڑوں کی سخت اونچ نیچ پر عام گاڑیاں نہیں چل سکتیں۔ لاہوت دراصل ایک جگہ کا نام ہے، جبکہ لا مکاں کا مطلب ہے “اس کے بعد کوئی جگہ نہیں”۔ یہی نام اس مقام کی روحانی عظمت کو بیان کرنے کے لیے کافی ہے۔
لاہوت لا مکاں واقعی ایک حیرت انگیز اور مہم جوئی سے بھرپور مقام ہے۔ یہاں کا راستہ نہایت کٹھن اور خطرناک ہے۔ سیڑھیوں سے چڑھنا ایک جان لیوا مرحلہ ثابت ہو سکتا ہے۔ زائرین کو مضبوطی سے سیڑھی پکڑنی پڑتی ہے، پتھروں پر قدم جما کر رکھنا ہوتا ہے، کیونکہ ذرا سی لغزش انسان کو گہری کھائی میں گرا سکتی ہے۔
لیکن جب اس مشکل سفر کے بعد انسان اوپر پہنچتا ہے تو قدرت کے حسین مناظر تمام تھکن دور کر دیتے ہیں۔ پہاڑوں سے گرتے ہوئے آبشار، پانی کی روانی، اور اردگرد پھیلی خاموشی دل کو عجیب سا سکون عطا کرتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انسان دنیاوی شور سے نکل کر قدرت اور روحانیت کی آغوش میں آ گیا ہو۔ یہ صرف ایک مقام نہیں، بلکہ ایک ناقابلِ فراموش احساس ہے، جو ہمیشہ دل میں زندہ رہتا ہے۔
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: