شبِ برات اور ماہِ شعبان کی حقیقت: مسنون اعمال اور رسمی بدعات کا فرق| الشیخ حافظ عبد الغفار حفظہ اللہ
Автор: Abu khalid islamic
Загружено: 2026-01-30
Просмотров: 82
Описание:
ویڈیو کی تفصیل
اس تفصیلی جمعہ کے خطبے میں ہم قرآن و سنت کی روشنی میں ماہِ شعبان اور پندرہویں شب (شبِ برات) کی شرعی حیثیت کا جائزہ لیں گے۔ اس بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ کون سے اعمال نبی کریم ﷺ سے ثابت ہیں اور کون سی رسمیں ثقافتی بدعات ہیں۔
بیان کے اہم نکات:
• سنت کی اہمیت: عبادت کا بہترین اور قبولیت والا طریقہ صرف وہی ہے جو حضرت محمد ﷺ نے سکھایا ہے؛ اس کے علاوہ ایجاد کردہ طریقے بدعت اور گمراہی ہیں,۔
• شبِ برات (15 شعبان) کی حقیقت: پندرہویں شعبان کی رات کی کوئی خاص فضیلت، خاص عبادت یا تقدیر کے فیصلے لکھے جانے کے بارے میں کوئی بھی صحیح حدیث موجود نہیں ہے,۔
• شعبان کے مسنون اعمال: نبی کریم ﷺ رمضان کے علاوہ سب سے زیادہ نفل روزے شعبان میں رکھتے تھے۔ تاہم، اگر کسی کا معمول نہ ہو تو نصف شعبان کے بعد روزے رکھنے سے منع کیا گیا ہے تاکہ رمضان کے لیے کمزوری نہ ہو,۔
• روحوں کی واپسی کا افسانہ: یہ عقیدہ بالکل غلط ہے کہ اس رات روحیں گھروں میں واپس آتی ہیں یا درختوں کے پتے گرنے سے موت کا فیصلہ ہوتا ہے۔ روحیں 'علیین' یا 'سجین' میں ہوتی ہیں اور واپس نہیں آتیں۔
• آتش بازی اور چراغاں کی ممانعت: گھروں اور مساجد میں لائٹنگ کرنا اور پٹاخے چلانا مجوسیوں (آتش پرستوں) اور برامکہ کی رسم ہے، یہ فضول خرچی اور شیطانی عمل ہے,۔
• نیت کا مسئلہ: محض اچھی نیت کسی خلافِ سنت عمل یا بدعت کو جائز نہیں بنا سکتی۔ عبادت کے لیے طریقہ بھی وہی ہونا چاہیے جو رسول اللہ ﷺ نے بتایا۔
دین کی صحیح سمجھ اور بدعات سے بچنے کے لیے یہ ویڈیو مکمل دیکھیں
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: