محبت فیصلہ کُن ہے - Muhabbat Faisla kun hay - انجینئر احسن عزیز شہید رح - Engineer Ahsan Aziz Shahed
Автор: ilm o adab
Загружено: 2021-08-25
Просмотров: 2082
Описание:
محبت فیصلہ کُن ہے
جفا اور جورواستکبار و نخوت ___ کی صلیبیں
ہر طرف چاہے جڑی بھی ہوں
ستم اور سربریّت __ کی فصیلیں
جس قدر چاہے بڑی بھی ہوں
صداقت کی کَمندیں
ان کو پیچھے چھوڑ دیتی ہیں!
بدن اور روح کے بندھن وہ گرچہ توڑ دیتی ہیں
مگر تاریخ شاہد ہے
یہ نوبت بیت جاتی ہے
محبت فیصلہ کُن ہے
محبت جیت جاتی ہے!
محبت!... اور کیا ہے یہ؟
بس اک صبحِ عزیمت ___ شامِ پیمانِ وفا ہے یہ
سفر کی ابتدا تا انتہا
ہر مرحلہ ہے یہ
محبت راہروانِ زخم خوردہ کا سہارا ہے
محبت ڈوبنے والوں کی ناؤ ہے، کنارہ ہے
کبھی اوجھل نہیں ہوتا
محبت دن کا تارا ہے
سبھی پر آشکارا ہے
کہ یہ برگِ گل و شاخِ نشیمن پر ہمیشہ تخت آرا ہے
محبت کو ہر اک موسم گوارا ہے
کبھی بادِ بہاری میں گلوں کو یہ ہنساتی ہے
کبھی پت جھڑ کی شاموں میں چمن بھر کو رُلاتی ہے
محبت گلشنِ ہستی میں یوں بھی
عدل کی میزاں سجاتی ہے
کہیں اپنوں کو بیگانہ بتاتی اور
کبھی ایسا بھی کرتی ہے
مسافر، اجنبی، اَنجان لوگوں کو
درونِ خانۂ دل تک کا یہ مہماں بناتی ہے!!
اسے اظہار کے پھولوں کی چادر نہ ملے پھر بھی
بہار اپنی دکھاتی ہے، وجود اپنا جتاتی ہے
بتاتی ہے
محبت فیصلہ کُن ہے
محبت جیت جاتی ہے
محبت کے مسافر!
یہ بتا ____ کیسا مَفَر ہے یہ ؟
کہ جب طے ہوچکا پہلے
محبت کا سفر ہے یہ!
یہاں پر آبلہ پائی کی کوئی حد نہیں ہوتی
دہکتے ریگزاروں میں بھی یاں ہرگز
سرابِ یاس کی آمد نہیں ہوتی
یہ لے کر آس آتی ہے
دعا کی تتلیاں بن کر جو ____ تابۂ عرش جاتی ہے
خطاؤں کے عوض بازارِ رحمت سے
گل و ریحان لاکر ایک نخلستاں سجاتی ہے
شکستہ، ریختہ، بے ہمتوں کو
غم کے ماروں کو
یہ پھر اک نغمۂ ازلی سناتی
محبت فیصلہ کُن ہے
محبت جیت جاتی ہے
محبت کا مقدر
دو جہانوں کا اجالا ہے
محبت شافع محشرصلی اللّٰہ علیہ وسلم کی الفت کا حوالہ ہے
محبت نے ہمیشہ بے سہاروں کو سنبھالا ہے
محبت محورِ دعوت ہے، ٹوٹے دل کا ہالہ ہے
محبت نے ادب کو خُلْق کے قالِب میں ڈھالا ہے
محبت نور ہے، پاکیزگی کی ایک مالا ہے
یہی روحِ قرارِ بندگی بھی ہے
محبت جب تلک ہے، زندگی بھی ہے!
اندھیروں میں یہی ہے جو
چراغِ رہ جلاتی ہے
شب دیجور میں اہلِ حمیّت کو
یقیں کی رہ چلاتی ہے!
محبت فیصلہ کُن ہے
محبت جیت جاتی ہے!
محبت کے جواہر
ہر افق پر جلوہ آرا ہیں
محبت کے ظواہر
مہر و مہ ہیں، مثلِ پارا ہیں
ہر اک،سَنگر، پہ ڈوبے
خوں کے دریا میں
یہ موتی!
چمک جن کی
کسی پت جھڑ
کسی پالے میں گِھر کر
کم نہیں ہوتی!
مقدر کی ہوا جب ان کو ساحل سے لگاتی ہے
وفا کی ___ آخری سانسوں کی ڈوری
جس سمے میں ٹوٹ جاتی ہے
محبت، روح کو خوشبو کے دامن میں بساتی ہے
یہ خوشبو عالمِ فانی میں رہنے والے لوگوں کو
شکست و فتح کی بابت
یہی مژدہ سناتی ہے
محبت فیصلہ کُن ہے
محبت جیت جاتی ہے!
شاعر : انجینئر احسن عزیز شہید رح
Muhabbat faisla kun hay
muhabbat jeet jati hay
Poet : Engineer Ahsan Aziz Shaheed R.A
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: