Zindagi | Sohaib Mugheera Siddiqui | Urdu Poetry
Автор: Sohaib Mugheera Siddiqui
Загружено: 2021-09-11
Просмотров: 21321
Описание:
زندگی
دل میں لاوا ہے جو بھی ، جو انگا ر ہے
آج بیکار ہے
جل رہا ہے جو سینے میں نوحہ لیے ، ایک فنکار ہے
وہ بھی بیکار ہے
پوچھنے کو بھلا کوئی ہے بھی سہی
کوئی اٹھائیس برس یونہی جیتا رہا
دو سو چوبیس ملین سے زیادہ دفعہ سانس کھینچا گیا ،
ہر تنفس پہ معنی کی تفہیم کا زخم نوچا گیا
خوب سوچا گیا
ایک ذرے کو دیکھیں تو موجود ہیں ، اور نہ دیکھیں تو موجود کچھ بھی نہیں
کائناتوں کو دیکھیں تو مربوط ہیں ، اور کوانٹم میں مربوط کچھ بھی نہیں
ہست ہے ہی نہیں
نیست ہی نیست ہے
کوئی لا نہ الا۔۔۔۔۔نہ ہی کیو ں اور نہ کیا
صرف تشکیک ہے ،سب کہاں ٹھیک ہے ؟
چند ملین برس اورجی لیں گے آخر بکھر جائیں گے
ہم سے پہلے بھی کیا کچھ نہیں ہوچکا
ہم بھی ہومو ایرکٹس ہیں ،مر جائیں گے
باقی رہنا بھی ایسا مقدر نہیں
کون ہے جس کے کاندھوں پہ پتھر نہیں
ہم بھی سب کی طرح اپنا پتھر پہاڑی پہ لے جائیں گے
پھر اتر جائیں گے
خود سے پوچھو ذرا
ہم بھی بے بس نہیں ہیں تو پھر اور کیا ہیں
سسی فس نہیں ہیں تو پھر اور کیا ہیں
اس سے پہلے کےبے معنوی زندگی اور گنجلک تماشے دکھاتی مجھے
اک گھٹا زندگی کی تمازت میں جھلسے ہوئے شخص پر چھا گئی
اور تم آگئی
ایک آتش فشاں دل کی ویرانیوں سے نکل کے کوئی نظم بننے لگا
کوئی کیمیو کی باتوں سے سر کھینچ کر اک کلائی کی چوڑی پہ مرنے لگا
کہکشاؤں کی پیچیدگی
اپنے ہونے کا ابہام
ذروں کے دوہرے رویوں کی تفہیم
منطق کی گہرائیاں
کتنا کچھ تھا کہ جو دل کہ سادہ ورق پر لکھا رہ گیا
اور دل تھا کہ دنیا جہاں چھوڑ کر جس جگہ پر رکا تھا رکا رہ گیا
(صہیب مغیرہ صدیقی)
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: