ملکہ بلقیس اور حضرت سلیمان علیہ السلام کا دلنشین قصہ
Автор: syedazaira110
Загружено: 2026-02-04
Просмотров: 85
Описание:
تختِ شاہی پر براجمان ہوئے تو اپنے ربّ کے حضور، کام یابی کی دُعا کرتے ہوئے عرض گزار ہوئے۔ ’’اے میرے پروردگار! مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما کہ جو میرے بعد کسی کو بھی میسّر نہ ہو۔‘‘ (سورئہ ص،آیت 35) رب العالمین نے اپنے محبوب بندے کی دُعا کو شرفِ قبولیت بخشا اور ہفت اقلیم بناکر دنیا کی ہر شے کو اُن کا مطیع و فرماں بردار بنادیا۔
نبوّت و حکمت سے سرفراز فرما کر، ہوا، سمندر، پہاڑ، دریا، چرند، پرند، انسان، حیوان، جنّات و شیاطین، مال و دولت، نباتات و معدنیات، حتیٰ کہ جانوروں اور پرندوں کی بولیوں کا علم تک اپنے نبی ؑ کے قدموں میں ڈھیر کردیا۔ خود اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے کہ ’’ہم نے تندوتیز ہوا کو سلیمانؑ کے تابع کردیا۔‘‘ (سورۃ الانبیاء، 81)۔ دہُد کو حاضر ہونے کا حکم: ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے سفر کے دوران ہُدہُد کو حاضر ہونے کا حکم دیا۔ ہُدہُد اُس وقت موجود نہیں تھا۔ اُس کے بغیر اطلاع غیر حاضر ہونے پر آپ کو غصہ آگیا اور فرمایا۔ ’’اگر ہُدہُد نے غیرحاضری کی معقول وجہ نہیں بتائی، تو اسے سخت سزا دوں گا یا ذبح کردوں گا۔‘‘ (سورۃ النمل،21)۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے سوال کیا گیا کہ تمام پرندوں میں سے صرف ہُدہُد کو کیوں بلایا گیا؟ آپ نے جواب دیا، ’’حضرت سلیمان علیہ السلام نے کسی ایسی جگہ قیام فرمایا تھا، جہاں پانی نہیں تھا۔‘
Повторяем попытку...
Доступные форматы для скачивания:
Скачать видео
-
Информация по загрузке: