Mufti Shehbaz Hanfi
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول حیاء والے لوگوں کے لئے بیحیا کبھی بزرگ نہیں ہوتا
ایک انسان کی موت ساری انسانیت کی موت ہے سارے مسلمان آگ میں جل رہے ہیں کسی کو کوئی پرواہ نہیں
اللہ ربّ العزت کو شکر سے محبت ہے تکبر اور شرک سے نفرت ہیں تکبر کی تعریف سنے
آج کل اخبارات میں اشتہارات میں قرآنی آیات حدیث مبارکہ ایسے لکھا جاتا ہے جیسے کوئی معمولی چیز ہے
آج اس دور میں میرے رب کے قرآن کو وہ مانے گا جوحرام خور نہ ہوگا کوئی قرآن کو نہیں مانتا
اپنے میت کو غسل خود دو بیٹا باپ کو بیٹی ماں کو غسل دے بیٹا اپنے باپ کے عیب کو چھپا ہیگا
نبی کریم علیہ السلام فرمائیں اخپل عزت مال باندھے سوک مپریژدا بغیرت بیزمیر مجوڑیژہ
آج کل حق بات کہنے کو انتشار کا نام دیتے ہیں مثال سمجھنا
دہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ غیرتی خبر مسلمانوں دہ پارہ عبرت خبر
اس دور کی بزرگی اپنے عزتوں کو بچاؤ اپنے اولادوں پر گھر کی عورتوں پر نظر رکھنےوالا بزرگ ہیں
مژ تہی خداہ دغہ پارہ نیو پیدا کڑی چہ مژ تہی ڈمان جوڑے ژو شزی می بیحیاسی
اللہ تعالیٰ اور نبی کریم علیہ السلام کی محبت پر ایک شخص نے اعتراض کیا اللہ والے نے جواب دیا
طلاق کے نام پر دھوکہ دینے والوں کو عقلمندانہ جواب
اپنی اولاد دوسرے کو دینا دوسرے کی اولاد کو لینا یہ بچے کے ساتھ اس دور میں ظلم ہے
مسلمان مؤمن کی جان تمام دنیا سے زیادہ قیمتی ہے
غیر مقلد کہتے ہیں مسلم شریف میں حدیث ہے ایک مجلس کی تین طلاق ایک ہوتی ہیں اس کا مطلب چھپاتے ہیں
ہمارے معاشرے میں بیوہ عورتوں کو نہ حق دیتے ہیں نہ نکاح یہ بہت بڑا ظلم ہے
ہر مفتی خو پہ ہر مسئلہ باندے ندی خبر سوک چہ اخپل دہ خواش سرہ زنا وکی ددہ مینہ پر حرام سو
ہمارے عدالتوں میں بل پاس ہوا ہے 18سال سے کم عمر کے بچے کا نکاح پڑھانے والے مولوی کو تین سال سزا ملے
شان صدیق اکبر رضی اللہ عنہ
جن بچوں کے والدین انہیں ڈاکٹر انجینئر بنانا چاہتے ہیں انہیں کالجوں میں ہجڑہ بنایا جارہا ہے
میں اپنے حکمرانوں سے کہتا ہوں یا تھانے میں ڈاکٹر بڑھاؤ یا ہسپتالوں میں پولیس کو بٹایا جائے تا کہ لوگ
بنات کے مدارس میں آج کل غیر شرعی کام ہورہا ہے
سپریم کورٹ میں عائشہ ملک کی تین طلاق کے بعد حلالے والا فیصلہ شریعت کے خلاف ہیں دلائل سنے
جس مسجد میں پانچ وقت نماز کے لیے امام موجود ہیں اس میں دوسری جماعت جائز نہیں
کسی عالم کی توہین کفر ہیں
جس حافظ یا عالمہ کو خود قرآن پڑھنا نہیں آتا ہوں اس کے لئے فیس لینا جائز نہیں ہے
بعض جگہ تبلیغی مرکز یا مسجد میں کوئی مسافر یا جماعت کا ساتھی امامت کراتا ہے پیچھے کوئی مقیم آکر کھڑا
جب اس موبائل سے ساری ضرورت پوری ہوتی ہیں تو بڑے موبائل کی کیا ضرورت تھی
آج کل ماسٹر یا مدرسہ کا قاری صاحب گھر کا غصہ بچوں پر کیوں نکالتے ہیں